خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 441
خطبات مسرور جلد نهم 441 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2011ء کہ ہم لوگ مسلمان تھے مگر اسلام کی حقیقی تعلیم سے بے خبر تھے۔احمدیت نے ہمیں اسلام کی صحیح تعلیم سے روشناس کروایا۔وہ امام صاحب کہتے ہیں کہ میں پہلے لوگوں کو تعویذ لکھ کر دیا کرتا تھا مگر احمدیت کی برکت سے یہ کام چھوڑ دیا ہے اور اب اسے غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔یہ جو تعویذ گنڈے کا کاروبار ہے یہ مسلمانوں میں عام رواج ہے۔یہ دنیا میں ہر جگہ ہے۔صرف ہندوستان پاکستان میں ہی نہیں ہے بلکہ عربوں میں بھی ہے اور دوسرے لوگوں میں بھی ہے۔یہ بدعات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر دور فرمایا اور فرمایا کہ جو اصل اور حقیقی اسلامی تعلیم ہے کہ خدا سے تعلق پیدا کرو، بر اوراست تعلق پیدا کر و اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کرو۔اس پر تمہیں عمل کرنا چاہئے۔پھر لو کو ساریجن کے ایک گاؤں کے صدر جماعت سوسو گاجی صاحب بیان کرتے ہیں کہ پہلے مجھے بہت جلد غصہ آجاتا تھا اور اس حالت میں بیوی اور بچوں کو مارنا شروع کر دیتا تھا اور گالی گلوچ میر ا معمول تھا۔جب سے میں نے بیعت کی ہے نمازوں کی طرف توجہ ہو گئی ہے اور میں محسوس کرتاہوں کہ مجھ میں صبر اور برداشت پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔تو یہ افریقہ کے دور دراز علاقے کے نئے احمدی ہونے والے کی پاک تبدیلی ہے جو اُس میں پیدا ہوئی اور اُس کی وجہ یہ کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوا، نمازوں کی طرف توجہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بجالانے اور اُس پر عمل کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہوئی۔جرمنی کے دورے میں جو میرا گزشتہ دورہ ہوا ہے، اس میں ایک جرمن نوجوان احمدی ہوئے، اُس نے مجھے یہی بات کہی (میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں ) کہ میں سخت قسم کا عصیلہ انسان تھا۔ذرا ذراسی بات پر مجھے غصہ آجاتا تھا لیکن احمدی ہونے کے بعد ایک ایسی تبدیلی پیدا ہوئی ہے مجھے لگتا ہے کہ احمدیت نے مجھے صبر اور تحمل اور برداشت سکھائی ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سے ایک تعلق پیدا ہوا اور جب اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوا تو اپنی طبیعت پر کنٹرول بھی پیدا ہوا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہوئی۔پھر ایک اور نو مبائع دوست نے کہا کہ ہم شراب پیتے تھے، سگریٹ نوشی کرتے تھے، احمدیت قبول کرنے سے ہم نے یہ دونوں چیزیں چھوڑ دی ہیں، بلکہ اگر نمازیں باقاعدہ ہوں ( وہ خود وہ لکھتے ہیں کہ اگر نمازیں با قاعدہ ہوں) تو ان فضول چیزوں کی طرف توجہ ہی نہیں رہتی۔تو یہ تعلق ہے جو اللہ تعالیٰ سے ان لوگوں نے قائم کیا کہ نمازوں کی طرف توجہ پیدا ہوئی، اللہ تعالی سے تعلق بڑھا اور ان سب فضولیات سے ، لغویات سے اور گناہوں سے تو بہ کرنے والے بنے۔پس حقیقی نمازیں ہیں جو ان برائیوں سے چھڑانے والی ہو جاتی ہیں اور ہونی چاہئیں۔جماعت احمد یہ صرف پرانے قصے پیش نہیں کرتی بلکہ آج بھی، اس زمانہ میں بھی، بندے کا خدا سے تعلق جوڑنے کے بیشمار واقعات ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے سے، آپ کی تعلیم پر عمل کرنے سے ایک انقلاب کی صورت میں لوگوں میں پیدا ہوئے ہیں۔