خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 440

440 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم دوسرے دن کی (جو رپورٹ پیش کی جاتی ہے اُس) رپورٹ میں سے لئے ہیں۔یہ واقعات ہیں جو وقت کی کمی کی وجہ سے اُس وقت بیان نہیں ہوئے تھے اور عنوان بھی بیان نہیں ہوا تھا۔عنوان یہ ہے کہ ”احمدیت قبول کرنے کے بعد نو مبائعین میں غیر معمولی تبدیلی تو جیسا کہ میں نے اُس وقت بھی کہا تھا کہ بعد میں بیان کروں گا تو آج میں یہ بیان کروں گا۔یہ بڑا اہم عنوان ہے جو پرانے احمدیوں کو بھی ایمان میں بڑھانے اور اصلاح کا باعث بن جاتا ہے اور نئے بھی جب یہ سنتے ہیں تو مزید ایمان میں ترقی کرتے ہیں۔امیر صاحب جماعت احمدیہ دہلی لکھتے ہیں کہ جو لوگ احمد کی ہو رہے ہیں اُن میں نمایاں تبدیلی پید اہو رہی ہے۔لکھتے ہیں کہ : عثمان صاحب جو جلسہ سالانہ قادیان 2010ء کے موقع پر بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے، بیان کرتے ہیں کہ بیعت کرنے سے پہلے میں کبھی کبھار نماز پڑھتا تھا لیکن بیعت کے دن سے ہی نہ صرف پانچوں وقت کی نماز ادا کرتا ہوں بلکہ اکثر تہجد ادا کرنے کی توفیق ملتی ہے۔“ خدا کرے کہ ان نو مبائعین جن کے اکثر یہ واقعات ہیں اور لکھتے بھی رہتے ہیں ان کا بھی یہ سلسلہ مستقل مزاجی سے چلتا رہے اور جو پرانے احمدی ہیں ہم میں سے جو بعض دفعہ نمازوں میں سستیاں دکھا جاتے ہیں، اُن کو بھی احساس پیدا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے جو بہت اہم ذمہ واریاں ہیں جس کے بغیر ہمارا بیعت کرنا صرف نام کا بیعت کرنا ہے اور سب سے بڑی اور اہم چیز جو ہے وہ نمازوں کی ادائیگی ہے، اس کی طرف توجہ ہے اور اس کے بعد پھر نوافل کی ادائیگی ہے۔پس ہر ایک کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ نئے آنے والے کس طرح اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پھر ہمارے ایک مبلغ ہیں طارق محمود صاحب اپر ایسٹ ریجن گھانا کے ، وہ لکھتے ہیں کہ : گزشتہ دنوں گبا گا کے مقام پر نواحمدیوں کی ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔اس موقع پر ایک نو احمدی امام نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم لوگ مسلمان تھے۔( یہ گھانا کا نارتھ کا علاقہ ہے ، اکثریت اُن میں مسلمانوں کی ہے اور وہاں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتیں ہو رہی ہیں۔پھر اُس زمانے میں جب احمدیت گھانا میں پھیلی ہے تو سمندر کے ساتھ ساتھ کے علاقے میں پھیلی، ساؤتھ کے علاقے میں پھیلی جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ عیسائیت سے احمدیت میں شامل ہوئے اور بڑی تیزی سے جماعت نے اُس علاقے میں ترقی کی۔اور جو مسلمانوں کا علاقہ تھا وہاں مخالفت بہت زیادہ بڑھی ہوئی تھی سوائے چند ایک کے یا ایک جماعت قائم ہوئی جو وا (wa) کی جماعت تھی جہاں آج سے پچاس ساٹھ ستر سال پہلے ، بلکہ شروع میں ہی کہنا چاہئے جب احمدیت وہاں گئی ہے تو احمدیت کا پودا لگا اور پھر جماعت بڑھتی گئی لیکن باقی علاقہ میں نارتھ میں مسلمان ہونے کی وجہ سے شدید مخالفت رہی ہے۔اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے چند سالوں سے نارتھ میں بھی بڑی تیزی سے احمدیت کا نفوذ ہو رہا ہے )۔تو لکھتے ہیں کہ ہمارے جو نو احمدی امام تھے ( جو اُن کے ماننے والے ہیں وہ بھی اللہ کے فضل سے اُن کے سمیت جماعت میں شامل ہو رہے ہیں)