خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 38

38 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بھی چلے لیکن بہر حال آخر تبدیلی لانی پڑی اور مجرم کو سزا بھی ملی۔جب اس کا فیصلہ ہو گیا تو اس کے فیصلے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ہی فرمایا اور بالکل صحیح فرمایا کہ : ” میرے آقا حضرت محمد مصطفی صلی ال یکم کی عزت اس سے بالا ہے کہ کسی فرد یا جماعت کا قتل اس کی قیمت قرار دیا جائے۔میرا آقاد نیا کو زندگی بخشنے آیا تھا نہ کہ ان کی جان نکالنے کے لئے“۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 606 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) کاش کہ آج بھی ہر مسلمان یہ بات سمجھ جائے کہ اگر حقیقت میں کوئی فتنہ ہے تو قانون ظاہری فتنے کا علاج کرتا ہے ، دل کا نہیں۔اول تو یہی تحقیق نہیں ہوتی کہ فتنہ ہے بھی کہ نہیں؟ مسلمان کے لئے حقیقی خوشی اس وقت ہو گی اور ہونی چاہئے جب دنیا کے دلوں میں آنحضرت صلی علیہ کم کی محبت قائم ہو جائے گی۔آج احمدیوں کا تو یہ فرض ہے ہی جس کے لئے ہمیں بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔اگر دوسرے مسلمان بھی سختی کے بجائے عفو اور پیار کا مظاہرہ کریں اور وہ نمونہ دکھائیں جو آنحضرت علی ای کم نے دکھایا تو پھر یہی اسلام کی خدمت ہو گی۔آپ نے دو کثر دشمنانِ اسلام جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر مزاحمت کا فیصلہ کیا تھا لیکن پھر بعد میں جب لشکر کو دیکھا اور فتح مکہ کی شوکت دیکھی تو گھبراگئے۔اور پھر ایک عورت ام ہانی ، جن کے خاوند کے وہ عزیز تھے جب اُن کے گھر وہ پناہ لینے کے لئے آئے تو ام ہانی نے پناہ دے دی اور پھر آنحضرت صلی علیہ یکم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ انہوں نے دو اشخاص کو پناہ دی ہے۔لیکن میر ابھائی علی کہتا ہے کہ میں انہیں قتل کر دوں گا وہ مجرم ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اے ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے پناہ دی۔انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔(السيرة النبوية لابن هشام باب من أمر الرسول علي الله بقتلهم صفحه 742-744 مطبع دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) اس پناہ کے بعد انہی دشمنوں کو یہ فکر تھی کہ آنحضرت صلی علیہ یکم نے اس طرح شفقت اور رافت اور پیار کا سلوک کیا ہے کہ ہم کس طرح ان کو منہ دکھائیں گے۔لیکن جب ایک موقع پر حارث بن ہشام کی مسجد کے قریب آنحضرت صلی علیم سے اتفاقاً ملاقات ہوئی تو اس رحمتہ للعالمین نے نہایت شفقت سے ملاقات فرمائی۔اور پھر یہ حارث جنگ یرموک میں اسلام کے دفاع میں جاں نثاری دکھاتے ہوئے شہید ہو گئے۔(سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد از محمد بن یوسف شامی ذکر اسلام الحارث بن هشام۔۔۔جلد 5 صفحه 250249 بیروت 1993ء) (اسد الغابة جلد 1 صفحه 478 الحارث بن هشام بن المغيرة مطبوعه دارالفکر بيروت 2003ء) پس ایک عورت کے پناہ دیئے ہوئے کا بھی آنحضرت صلی اللہ ہم نے یہ احترام فرمایا کہ جس کے نتیجہ میں وہ اسلام کی آغوش میں آگیا۔آج بھی ہمیں اسی اُسوہ کی ضرورت ہے اور اسلام کا حقیقی پیغام دنیا میں پہنچانے کی ضرورت ہے نہ کہ ظاہری قانون بنا کر پھر غلط طریقے سے ان پر عمل کرنے کی۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور سب مسلمانوں کو بھی اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 11 فروری تا 17 فروری 2011 ء جلد 18 شمارہ 6 صفحہ 5 تا 8)