خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 37

خطبات مسرور جلد نهم 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء اس وقت جب یہ ہوا اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان میں قانون میں تبدیلی بھی ہوئی اور یہ قانون پاس ہوا کہ جو انبیاء ہیں اور جو کسی بھی مذہب کے فرقے کے سر براہ ہیں ان کو برابھلا نہیں کہا جا سکتا۔اب آگے چلیں۔احمدیوں کی تاریخ میں آج سے ہیں سال یا پچیس سال پہلے بد نام زمانہ سلمان رشدی نے جو اپنی مکروہ کتاب لکھی تھی تو اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے خود بھی خطبوں میں اس کا جواب دیا اور پھر کتابی شکل میں بھی جواب لکھوایا گیا جو انگریزی میں چھپا، جس کا اردو ترجمہ بھی چھپ چکا ہے۔اس کے اردو ترجمہ کا نام ” سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں ہے۔2005 ء میں جب ڈنمارک میں آنحضرت صلی این نام کے متعلق بیہودہ تصاویر بنائی گئیں تو ڈنمارک مشن نے بھی اور میں نے بھی خطبات کے ذریعہ اس کا جواب دیا۔قانون کے اندر رہتے ہوئے کارروائیاں بھی کیں۔ہالینڈ کے ممبر آف پارلیمنٹ کی طرف سے قرآنِ کریم پر حملہ ہوا، اسلام پر حملہ ہوا تو ان کے جوابات دیئے گئے۔تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے غیرت کا مظاہرہ ہے جو ایک حقیقی مسلمان کا سرمایہ ہے۔قانون سے باہر نکل کر ہم جو بھی عمل کریں گے وہ آنحضرت صلی اللہ نام سے صدق و وفا کا تعلق نہیں ہے۔لیکن اصل چیز جو اس صدق و وفا کے تعلق کو جاری رکھنے والی ہے وہ آپ کا پیغام ہے۔اگر مسلمان اس پیغام کی حقیقت کو سمجھتے ہوں، اس خوبصورت پیغام کے پہنچانے کا حق ادا کرنے والے بن جائیں تو آج یہ حالات نہ ہوں۔اگر وہ حقیقت میں اس رسول صلی ا یلم کے اسوہ پر عمل کر رہے ہوتے تو دشمن کا منہ خود بخود بند ہو جاتا۔اور اگر مسلمانوں میں سے چند مفاد پرست قانون کی آڑ میں ناجائز فائدہ اٹھانے والے ہوتے بھی یا فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کرتے تو قانون ان کو مجرم بنا کر اس مفاد پرستی کی جڑا کھیر دیتا۔لیکن یہ سب کام تقویٰ کے ہیں۔پس مسلمان اگر ناموس رسالت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تو اس تقویٰ کو تلاش کریں جو آنحضرت صلی علی یکم ہم میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں غیرت رسول صلی علیکم کے واقعات بھرے پڑے ہیں۔ایک خطبہ میں تو ان کا ذکر نہیں ہو سکتا۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔چند خطبوں میں بھی نہیں ہو سکتا۔اگر ہم نے اسلام اور آنحضرت صلی علیہم کی ذات کو ہر قسم کے اعتراضوں اور استہزاء سے پاک کرنا ہے تو کسی قانون سے نہیں بلکہ دنیا کو آنحضرت کے جھنڈے تلے لا کر کرنا ہے۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے فساد اس وقت ختم ہوں گے جب ہم آنحضرت صلی ایم کی اصل تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کریں گے اور دنیا کو آنحضرت صلی الم کے جھنڈے تلے لائیں گے۔لیکن اگر صرف قانون بنا کر پھر اس قانون سے اپنے مفاد حاصل کر رہے ہوں گے تو ہم بھی توہین رسالت کے مر تکب ہو رہے ہوں گے۔وہ تمان رسالہ جو تھا جس کے بارے میں میں نے بیان کیا کہ خلیفہ المسیح الثانی نے اس کے بارے میں لکھا اور مسلمانوں کو کہا کہ احتجاج کرو اور پھر ساری مسلم امت جو تھی وہ سراپا احتجاج بن گئی، مقدمے