خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 405
خطبات مسرور جلد نهم 405 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011 ء ہے۔جس طرح باقی مہینے ہیں انیس یا تیس دن کے یہ مہینہ بھی ہے۔مہینہ اس لئے عمدہ مہینہ ہے کہ نے اس میں دو عبادتوں کو اکٹھا کیا ہے خدا تعالیٰ اور اپنے بندوں کو یہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے یا موقع دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جائے ( دوری ہو جائے) اور تجلی قلب سے مراد یہ ہے کہ کشف کا دروازہ اُس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لے“۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 561-562 مطبوعہ ربوہ) پس یہ ہماراوہ مقصود ہے جسے ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔رمضان میں دو عباد تیں جمع ہو گئیں، جیسا کہ میں نے کہا ، نماز بھی اور روزہ بھی۔پس رمضان میں اپنی نمازوں کی بھی خاص حالت بنانے کی ضرورت ہے جس سے ایسا تزکیہ حاصل ہو جو نفس کی برائیوں اور شہوات سے اتنا دور کر دے کہ پھر ہم فَإِنِّي قَرِيبُ کی آواز سن سکیں۔ہماری نمازیں، ہمارے روزے صرف رمضان کے مہینے تک ہی محدود رہنے کے جوش میں نہ ہوں بلکہ اس نیت سے ہوں کہ جو تبدیلی ہم نے پیدا کرنی ہے، اُسے دائمی بنانا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر ہمیشہ لبیک کہنے والا رہنا ہے۔اپنے ایمانوں کو مزید صیقل کرنا ہے۔یہ سب کچھ یہ سوچ کر کرنا ہے کہ آج ہماری بقا بھی اس میں ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے بنیں اور دنیا کی بقا بھی ہم سے وابستہ ہے۔ہم خود اندھیروں میں ہوں گے تو دنیا کو کیا راستہ دکھائیں گے ؟۔ہم خود عِبادِی کے لفظ کی گہرائی سے نا آشنا ہوں گے تو دوسروں کو عباداللہ بننے کے لئے کیا ر ہنمائی کریں گے ؟ اس زمانہ میں جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اُس کام کے آگے بڑھانے کے لئے بھیجا ہے جس کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے ، پس جو سوال اللہ کے بندوں نے ، ان بندوں نے جو اللہ تعالیٰ کو پانے کی خواہش رکھتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، وہی سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق سے دنیا نے کیا اور آپ نے اُن کو اصلاح کا طریق بتایا، اللہ تعالیٰ کے قرب پانے کا طریق بتایا اور ایک جماعت اپنے ارد گرد جمع کرلی، اور یہی سوال مومنین کی جماعت سے آج دنیا کا ہے۔پس مومنین کی جماعت اُس وقت اس کا صحیح جواب دے سکتی ہے جب جماعت کا ہر فرد اس معیار کو حاصل کرنے والا ہو جو لبیک کہنے والوں اور ایمان لانے والوں کا ہونا چاہئے ، ایمان میں ترقی کرنے والوں کا ہونا چاہئے۔جب ہماری پکاروں کے بھی خدا تعالیٰ جواب دے رہا ہو گا، جب ہمیں فانی قریب کا صحیح ادراک حاصل ہو گا۔آج دنیا میں ہر جگہ فساد ہی فساد نظر آرہا ہے۔مشرق ہو یا مغرب، مسلمان ممالک ہوں یا عیسائی ترقی یافتہ ممالک، ایک بے چینی نے دنیا کو گھیر اہوا ہے۔اور گزشتہ دنوں اسی ملک میں جو توڑ پھوڑ اور بے چینی کا اظہار کیا گیا ہے اُس نے ان لوگوں کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں کہ صرف غریب ملکوں کا امن ہی خطرے میں نہیں ہے ، ان لوگوں کا امن بھی خطرے میں ہے۔پس اس کا ایک ہی علاج ہے کہ دنیا کو اللہ تعالیٰ کا عبد بنایا جائے لیکن کس طرح؟ ہمارے پاس تو کوئی طاقت نہیں ہے اور نہ ہی کسی دنیاوی طاقت کے ذریعہ سے خدا تعالی کی پہچان کروائی جاسکتی ہے۔دنیا کی