خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 404
خطبات مسرور جلد نهم 404 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011 ء پر اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کھڑا کر تار ہا لیکن وہ جاہ و حشمت وہ ساکھ جو مسلمانوں کی تھی، وہ تعلق باللہ جو ابتدائے اسلام میں عموماً نظر آتا تھا وہ غائب ہو گیا۔پس اب احمد ثانی کے ذریعہ سے رب العالمین نے جو انقلاب پیدا کرنے کا اعلان فرمایا ہے اُسے آپ کے ماننے والوں نے جاری رکھنا ہے۔اور جو جاری رکھنے والے ہیں وہی حقیقت میں آپ کے ماننے والے ہیں۔عہد رحمان بننا ہے اور عبد رحمان اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے بنانے ہیں۔تبھی ہم آج دوسرے مسلمانوں سے مختلف کہلانے کا حق رکھتے ہیں ورنہ جیسا کہ میں نے کہا صرف ایمان کا دعویٰ تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے ہم دوسروں سے اپنے آپ کو ممتاز سمجھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا عظیم کام کر گئے۔آپ کے صحابہ میں سے وہ عباد الرحمن پیدا ہوئے جو صاحب رؤیا و کشوف تھے۔وہ لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عبد بننے کا حق ادا کیا۔پس گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی آخرین کی پیشگوئی پوری ہوئی۔پھر آپ کے صحابہ کو وہ مقام ملا جس نے اُن کو پہلوں سے ملایا، لیکن اب یہ نظام اور جماعت کی ترقیات کی پیشگوئیاں تاقیامت ہیں۔ہم جب بڑے فخر سے اس کا ذکر کرتے ہیں تو صرف ذکر کافی نہیں ہے، ہمیں اس انقلاب کا حصہ بننے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنا ہو گا۔صرف اپنے بزرگوں کے حالات پر ہم خوش نہیں ہو سکتے۔ہمیں اُس تسلسل کو بھی قائم رکھنے کی ضرورت ہے جو انقلاب کی صورت میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگیوں میں ہمیں نظر آتا ہے۔آج دنیا کو آفات سے بچانے اور اس کا خدا سے تعلق جوڑنے کی ذمہ داری ہر احمدی پر ہے۔پس اس کے لئے ہم جب تک انفرادی اور اجتماعی کوشش نہیں کریں گے ، ہر ایک اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، ہم احمد ثانی کے حقیقی ماننے والوں میں شامل ہونے والے نہیں کہلا سکتے۔اور یہ ذمہ داری ہم ادا نہیں کر سکتے جب تک ہم اپنی عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کے وہ عباد بنے کی کوشش نہیں کرتے جو فَلْيَسْتَجِيبُوانی کا عملی مظاہرہ کرنے والے ہیں۔جو وَلْيُؤْمِنُوا ئی کی عملی تصویر بنتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے ہماری حالتوں کو سنوارنے کے لئے ایک اور رمضان المبارک سے گزرنے کا ہمیں موقع عطا فرمایا جس میں خدا کا قرب پانے، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر لبیک کہنے ، ایمان میں ترقی کرنے کے راستے مزید کھل جاتے ہیں۔پس ہم میں سے خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے پیار سے کہے گئے اس لفظ ” عبادی یعنی میرے بندے ” کا اس رمضان میں اعزاز پانے والے ہوں۔اللہ کرے کہ ہم ایک شوق، ایک لگن سے اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کی کوشش کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مہینے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ید ماه تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے ” فرمایا صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی قلب ”۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 561 مطبوعہ ربوہ) دلوں کو روشنی بخشنے کے لئے یہ مہینہ بڑا اعلیٰ مہینہ ہے۔کیوں اعلیٰ ہے ؟ اس کی ذاتی حیثیت تو کوئی نہیں