خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 397
خطبات مسرور جلد نهم 397 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء لوگوں نے بہت درد مند دانہ دعائیں کیں۔خدا تعالیٰ نے اُن کی دعاؤں کو قبول فرمایا۔الحمد للہ ثم الحمد للہ۔آئندہ بھی اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔تو یہ بھی اُن کی عاجزی ہے اور شکرانے کا بہت بڑا اظہار ہے کہ ماں کے ناطے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں نے بھی بہت دعائیں کیں۔یقینا میرے لئے بہت دعائیں کی ہوں گی لیکن جماعت کے افراد کی دعاؤں کو بہت اہمیت دی۔اور پھر صرف دعا میں خود غرضی نہیں دکھائی، یہ نہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ میری یا میرے بچوں کی حفاظت فرمائے بلکہ لکھا کہ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔تو یہ وہ خوبی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی ہے۔اور جس کا اظہار آپ نے اس اعلیٰ تربیت کی وجہ سے کیا جو آپ کی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں سے ہوئی۔آپ کے حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ بھی بہت سے واقعات ہیں جو طوالت کی وجہ سے بیان نہیں ہو سکتے۔آپ کے انٹرویو بھی آگئے ہیں، جنہوں نے سنتا ہے اُس میں بھی سن لیں گے یا پڑھ لیں گے۔آپ کی طبیعت میں اپنے اوپر بڑا ضبط اور کنٹرول تھا، لیکن میرے بیٹے نے بتایا کہ دو تین سال پہلے جب وہاں وہ گیا ہے تو میرے ذکر پر بڑی جذباتی ہو گئی تھیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی تمام دعائیں میرے لئے اور میرے بہن بھائیوں کے لئے اور ہماری اولادوں کے لئے پوری فرمائے۔خلافت کے بعد میرے ساتھ تعلق میں ایک اور رنگ ہی آگیا تھا۔جب بھی فون پر بات ہوتی تھی تو میں اس کو محسوس کرتا تھا۔جب دورے پر جانے سے پہلے فون کرتا تھا، اُن کو میری حالت کا پتہ تھا۔ماں سے زیادہ تو کوئی نہیں جانتا، میرے انداز کا بھی پتہ تھا کہ بات مختصر کرتا ہوں، تھوڑی کرتا ہوں، کم بولتا ہوں۔تو ہمیشہ یہی کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری زبان میں تمہاری تقریروں میں برکت ڈالے اور خاص طور پر یہ کہتیں کہ میں نفل بھی پڑھ رہی ہوں اور ہر نماز پر کم از کم ایک سجدہ میں دعا بھی کرتی تھی، لیکن جب 2005ء میں قادیان میں خلافت کے بعد میری پہلی دفعہ ملاقات ہوئی ہے اُن سے تو میرے لئے ایک عجیب صور تحال تھی، ایک عجیب انوکھا تجربہ تھا۔خلافت سے وہ تعلق جو میں نے اُن کی آنکھوں میں پہلے خلفاء کے لئے دیکھا تھا وہ میرے لئے بھی تھا۔وہ بیٹے کا تعلق نہیں تھا وہ خلافت کا تعلق تھا جس میں عزت و احترام تھا۔عزیزم ڈاکٹر ابراہیم منیب صاحب جو میر محمود صاحب کے بیٹے ہیں اُنہوں نے ، اُن کا وہاں انٹر ویو بھی لیا۔مختلف پرانی باتوں کا انٹر ویو لیا اُس میں میرا بھی ذکر آگیا۔انہوں نے بتایا بلکہ مجھے کیسٹ بھیجی ہے، اُس میں اُن کو وہاں ریکارڈ کروایا اور میرے متعلق بتایا کہ میں اب عزت و احترام اس لئے کرتی ہوں کہ وہ خلیفہ وقت ہے۔میری پیاری والدہ نے دین کے رشتے کو ہر رشتے پر مقدم رکھا۔یہاں بھی خلافت کا رشتہ بیٹے کے رشتے پر حاوی ہو گیا۔جب ملنے جاتا تو ان کی آنکھوں میں ایک خوشی اور چمک ہوتی تھی۔چہرے پر خوشی پھوٹ رہی ہوتی تھی۔قادیان میں جو دن گزرے اُس عرصے کے دوران جلسے کی مصروفیات سے جتنا وقت مجھے ملتا تھا، میں جاتا تھا تو پیار کرتیں اور ساتھ بٹھا کر کافی دیر تک باتیں ہوتی رہتی تھیں۔لیکن قادیان کا یہ