خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 359
خطبات مسرور جلد نهم 359 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء پھر میں بیٹھ گیا۔مجھے پیاس لگی تھی، میں نے گھڑوں کی طرف نظر اٹھائی۔وہاں کوئی پانی پینے کا برتن نہ تھا۔آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آپ کو پیاس لگ رہی ہے ، میں لاتا ہوں۔نیچے زنانے سے جا کر آپ گلاس لے آئے اور پھر نیچے گئے اور وہاں سے دو بوتلیں شربت کی لے آئے جو منی پور سے کسی نے بھیجیں تھیں۔بہت لذیز شربت تھا۔فرمایا کہ ان بوتلوں کو رکھے ہوئے بہت دن ہو گئے کیونکہ ہم نے نیت کی تھی کہ پہلے کسی دوست کو پلا کر پھر خود پئیں گے۔آج مجھے یاد آگیا۔چنانچہ آپ نے گلاس میں شربت بنا کر مجھے دیا۔میں نے کہا پہلے حضور اس میں سے تھوڑا ساپی لیں پھر میں پیوں گا۔آپ نے ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دیا۔اور میں نے پی لیا۔میں نے شربت کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا کہ ایک بوتل آپ لے جائیں اور ایک باہر دوستوں کو پلا دیں۔آپ نے ان دو بوتلوں سے وہی ایک گھونٹ پیا ہو گا۔میں آپ کے حکم کے مطابق بوتلیں لے کر چلا آیا۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 13 صفحہ 344-345 غیر مطبوعہ) حضرت میاں خیر دین صاحب سیکھوانی کہتے ہیں کہ ”ایک دفعہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو مسجد میں محکم الدین صاحب وکیل بیٹھے ہوئے تھے۔وکیل صاحب نے مجھے کہا کہ کیا آپ پس خوردہ یعنی تبرک کھانا چاہتے ہیں ؟ میں نے کہا، ہاں۔تو اسی وکیل صاحب نے حضور کی خدمت میں پیغام بھیجا۔حضور نے ایک تھالی چاول اور اُس پر شور بہ بکری کا ڈالا ہوا تھا۔اور ایک طرف سے چند لقمے کھائے ہوئے تھے ایک خادمہ کے ہاتھ بھیجا جو ہم نے مل کر (رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 14 صفحہ 33 غیر مطبوعہ ) کھایا۔ماسٹر نذیر خان صاحب ساکن نادون لکھتے ہیں کہ ماموں صاحب شہامت خان صاحب نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ قادیان جاتے ہوئے میں کمال الدین ( یہ دوست بھی احمدی تھے) کو اپنے ساتھ قادیان لے گیا۔ہمارے لئے حضرت صاحب نے مرزا خدا بخش کو مقرر کیا کہ ہمارے کھانے وغیرہ کا انتظام رکھیں۔آپ نے حکم دیا کہ یہ پہاڑ سے آئے ہیں یہ چاول کھانے کے عادی ہیں، ان کے لئے چاول ضرور تیار کئے جائیں۔(ماخوذ ازرجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 14 صفحہ 296 غیر مطبوعہ ) (جلسے کے دنوں میں بھی، پاکستان میں بھی ربوہ میں جلسے ہوتے تھے ، تو سر حد سے آئے ہوئے لوگوں کے لئے گو باقی سالن تو ایک ہی پکتا تھا۔لیکن اُن کے لئے خاص اس لئے خمیری روٹی بنائی جاتی تھی کہ وہ فطیری روٹی نہیں کھاتے تھے، یا بعض کے لئے پر ہیزی کھانا پکتا تھا، اس لئے اتنی تو احتیاط رکھی جاتی ہے کہ مریضوں کے لئے یا بعض جو خاص کھانے کے عادی ہیں اور دوسرا کھا نہیں سکتے اُن کے لئے بعض چیزیں پک جاتی ہیں لیکن عموماً ایک ہی کھانا پکتا ہے اور اب یہی نظام ہر جگہ رائج ہے کہ عموماً ایک ہی کھانا دیا جاتا ہے۔اور سوائے اس کے کہ غیر ، مہمان آئے ہوں جو کھانہ سکتے ہوں اُن کے لئے بھی ہے۔ایک اعتراض یہ رہتا تھا کہ وی آئی پی مار کی۔حالانکہ کھانا اُس وی آئی پی میں صرف ایک ہی ہو تا تھا۔اب اُس کا بھی نام بدل دیا گیا ہے۔reserve کر دیا گیا ہے۔تو بہر حال جلسے کے انتظام کے لئے عموماً ایک کھانار کھا جاتا ہے سوائے اُن لوگوں کے لئے جو بالکل خاص چیزیں کھانے کے عادی ہوں)۔