خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 358 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 358

358 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء گاڑی پر بھی کم سوار ہوا ہوں۔بہت ساحصہ پیدل چل کر آیا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب! چائے پیئیں گے یا شربت۔انہوں نے عرض کیا کہ حضور اس وقت میں کھانا کھا چکا ہوں آپ تکلیف نہ کریں۔فرمایا نہیں تکلیف بالکل نہیں ہے۔مجھے فرمایا کہ میاں غلام حسین! ان کو شربت پلاؤ۔میں اندر گیا اور حضرت ام المومنین نے فرمایا۔پانی ٹھنڈا نہیں ہے بڑی مسجد سے لے آؤ۔میں بڑی مسجد سے پانی لایا یعنی مسجد اقصیٰ سے) حضرت ام المومنین نے مجھے شربت بنا دیا۔میں نے پیش کیا۔انہوں نے ایک گلاس پیا۔حضور نے فرمایا اور پیو۔چنانچہ ایک گلاس انہوں نے پیا، کچھ باقی بچ گیا۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی، حضور آپ بھی پی لیں۔فرمایا نہیں ، لے جاؤ۔کہا بس لے جاؤ، میں نہیں پیوں گا۔) حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ یہ بہت دور سے آئے ہیں، ان کے لئے کھانا الگ تیار کیا کرو اور اچھا کھانا ان کو کھلایا کرو۔وہ کوئی دوماہ یہاں رہے اور مجھ پر بہت خوش رہے۔حضرت صاحب نے مجھے خاص ہدایت کی تھی کہ ان کے لئے ایک وقت ( میں ) پلاؤ پکایا کرو“۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 10 صفحہ 325-326 غیر مطبوعہ ) حضرت بابو عبد العزیز صاحب اوور سیئر گوجر انوالہ کے تھے یہ لکھتے ہیں کہ ”مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں صرف ایک دفعہ دو دن قادیان آنے کا اتفاق ہوا۔اور میں طالب علم تھا اور ایک طالب علم میرے ہمراہ تھا۔میری سابقہ بیعت تحریری تھی اور میں دستی بیعت کے لئے حاضر ہوا تھا۔بیعت کرنے کے بعد شام کو ہم دونوں واپس آنے لگے تو حضور نے خود زبانِ مبارک سے فرمایا تھا کہ آج رات کو مزید رہو۔اور رات حضور خود اپنے دست مبارک سے ہمارے لئے بستر لائے اور ہم کو اپنے ساتھ بٹھا کر وہیں کھانا کھلایا۔اور دوسرے روز صبح دو پر اٹھے رومال میں باندھ کر ہم کو دیئے اور تھوڑی دور گلی میں ہمارے ساتھ ہمراہ آکر واپس تشریف لے گئے۔یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جبکہ حضور جہلم میں کرم دین کے مقدمے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ہاں رات کو ہم دونوں کو گول کمرے کے پاس ملحقہ کسی کمرے میں حضور نے ٹھہرایا تھا۔وہ پراٹھے میں گھر لے آیا تھا اور سب کو بانٹ دیئے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے عرصے کے بعد میری والدہ اور میرے بھائی دونوں احمدی ہوگئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 12 صفحہ 134 غیر مطبوعہ ) ( انہوں نے تبرک کو اس کی وجہ سمجھی)۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت اپنے بیٹھنے کی جگہ کھلے کواڑ کبھی نہ بیٹھتے تھے بلکہ گنڈا لگا کر بیٹھتے تھے۔( دروازہ بند کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھا کرتے تھے)۔حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب تھوڑی دیر کے بعد آکر کہتے ، ابا گنڈا کھول، اور حضور اُٹھ کر کھول دیتے تھے۔ایک دفعہ حاضر خدمت ہوا۔حضور بوریے پر بیٹھے تھے ، مجھے دیکھ کر آپ نے پلنگ اُٹھایا، اندر اُٹھا کر لے گئے۔میں نے کہا حضور میں اُٹھالیتا ہوں۔آپ فرمانے لگے ، بھاری زیادہ ہے، آپ سے نہیں اُٹھے گا۔اور فرمایا آپ پلنگ پر بیٹھ جائیں، مجھے یہاں نیچے آرام معلوم ہوتا ہے۔پہلے میں نے انکار کیا لیکن آپ نے فرمایا نہیں آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں