خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 344 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 344

344 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم آنے سے پہلے میں نے رویا میں ایک بزرگ کو دیکھا جو مجھے کہنے لگا کہ آدم علیہ السلام نازل ہوئے ہیں اُن کو قبول کرو۔ایک ماہ کے وقفے کے بعد بعینہ وہی بزرگ دوبارہ مجھے ملے اور یہی پیغام دیا کہ آدم علیہ السلام نازل ہوئے ہیں اُن کو قبول کرو۔ان کو تفصیلاً بتایا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کی آپ نے بیعت کی ہے اُن کا نام بھی اللہ نے آدم رکھا ہے۔اور اپنے اس رویا کے پورا ہونے پر بڑے خوش ہوئے۔اس کے بعد اپنے خاندان میں انہوں نے تبلیغ کی اور سو کے قریب افراد کو جماعت میں شامل کیا۔پھر مصر کی ہالہ صاحبہ ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت امام مہدی اور آپ کی جماعت پانی کے اوپر چل رہے ہیں۔میں نے درخواست کی کہ مجھے بھی شرف مصاحبت بخشیں۔انہوں نے کہا کہ واپسی پر ہم آپ کو ساتھ لے لیں گے۔اس رؤیا کے بعد میں نے صوفی ازم میں تلاش حق شروع کی لیکن اطمینان نہ ہوا۔میں نے کہا کہ میری خواب سے مراد صوفی فرقہ نہیں ہو سکتا۔باوجود اس کے کہ ان لوگوں کا اصرار تھا کہ میں نے انہی کو خواب میں دیکھا تھا۔گھر آکر میں ٹی وی پر مختلف چینل دیکھنے لگی یہاں تک کہ ایم۔ٹی۔اے العربیہ نظر آیا اور میری حیرت کی انتہانہ رہی کہ میں نے اس چینل پر وہی شخص دیکھا جس کو خواب میں دیکھا تھا کہ وہ پانی پر چل رہا ہے اور امام مہدی ہے۔اور مجھے انہوں نے لکھا کہ اس وقت انہوں نے مجھے دیکھا تھا۔تو یہ سب خوا ہیں جو اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے ، لوگ جو خلفاء کو دیکھتے ہیں تو اس سے بھی اصل میں اللہ تعالیٰ کا یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت کا جو نظام ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی ایک مسلسل ہے۔پور تو نودو ( بین) سے مبلغ ہمارے لکھتے ہیں کہ ہمارے گھر میں ایک لطیفہ نامی عورت بطور ملازمہ کے آئیں اور چند دن کے بعد ہی بیمار پڑ گئیں اور دو تین ہفتے کی چھٹی کی اور پھر یو کے کا جو جلسہ ہو نا تھا اس جلسہ کے قریب دوبارہ کام پر آنا شروع ہو ئیں اور آکر انہوں نے مربی صاحب کی اہلیہ کو بتایا کہ اس بیماری کے دوران دو تین مرتبہ مجھے خواب آئی ہے اور اُس کا مجھ پر بڑا شدید اثر ہے۔کہتی ہیں بیماری کے دوران میں خوب دعائیں کرتی رہی اور دعائیں کرتی ہوئی سوتی تھی کہ اے اللہ ! میرے گناہ بخش اور مجھے اور میری بچی کو جو شدید بخار میں ہے بچالے اور ہمیں اپنے سیدھے راستے پر موت دینا۔کہتی ہیں کہ ایک دن خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ میر اکمرہ خوب روشن ہو گیا اور نور ہی نور ہے۔تو میں یہ نظارہ دیکھ کر ابھی ڈر ہی رہی تھی کہ بہت ہی خوبصورت سفید رنگ کا عمامہ پہنے ہوئے بزرگ ظاہر ہوئے اور مجھے اپنی طرف بلا رہے ہیں۔اُس دن یہ نظارہ ختم ہو گیا۔پھر دو چار دن کے بعد ایسا ہی نظارہ دوبارہ دیکھا اور دو شخص ہیں جو ایک بہت بڑے سفید گھر میں داخل ہوتے ہیں اور لوگوں کے ہاتھ پکڑ کر کچھ باتیں کرتے ہیں۔وہاں بہت زیادہ کالے لوگ بھی ہیں، گورے بھی ہیں، ہر نسل کے ہیں جو اس کے پیچھے پیچھے الفاظ دہراتے ہیں اور بعد میں یہ کھڑے ہو کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔تو جب یہ خاتون آئیں اور انہوں نے مربی صاحب کی اہلیہ کو یہ خواب سنائی تو کہتے ہیں کہ اس دن جلسہ یو کے میں عالمی