خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 343 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 343

خطبات مسرور جلد نهم 343 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2011ء پھر ایک صاحب ہیں محمد رمضان صاحب، کافی دیر کی بات ہے کہ یہ ہمارے ایک مشنری کے پاس آئے۔ہمارے مبلغ محمود شاد صاحب جو شہید ہو گئے ہیں یہ اس وقت تنزانیہ میں تھے یہ اُن کا بیان ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں آپ کی جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔تو میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے جماعت کا تعارف حاصل کیا ہے یا ویسے ہی آپ آئے ہیں۔کہنے لگے میں پہلے ہی بہت وقت ضائع کر چکا ہوں۔اب مجھے تیسری دفعہ خواب میں رہنمائی کی گئی ہے۔اس لئے آج میں نے فیصلہ کیا ہے کہ لازما بیعت کرنی ہے۔اُس نے بتایا کہ اُس نے خود خدا سے رہنمائی مانگی تھی کہ بچے لوگ کون ہیں اور خواب میں مجھے تین دفعہ مورو گورو کی احمد یہ مسجد دکھائی گئی اور آخری دفعہ تو میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں ایک پہاڑی پر ہوں جہاں نور ہی نور ہے اور میرے ساتھی جو مجھے احمدیت سے روکتے تھے بہت نیچے ہیں۔چنانچہ آج میں بیعت کرنے آیا ہوں۔انہوں نے بیعت فارم پر کیا اور ساتھ اُس کے بعد فوری طور پر چندوں کی ادائیگی بھی شروع کر دی اور کہا کہ میں نے جہاں پہنچنا تھا پہنچ گیا۔الجزائر کے ایک (دوست) محمد رابح صاحب ہیں۔کہتے ہیں ایک سال سے زائد عرصہ سے میں ایم۔ٹی۔اے دیکھ رہا تھا۔شروع میں وفات مسیح، دجال اور امام مہدی وغیرہ کے بارے میں جماعت کے خیالات سُن کر تعجب ہوا۔استخارہ کرنے پر خواب میں دیکھا کہ مصطفی ثابت صاحب اور شریف صاحب کے ساتھ ایک مسجد میں ہوں۔انہوں نے پوچھا کہ تمہیں امام مہدی کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟ میں نے کہا کہ استخارہ سے۔مجھے شروع سے ہی امام مہدی کے ظہور کا انتظار اور اس کے ساتھ ہو کر لڑنے کا شوق تھا۔یہ کہتے ہیں اُس کے بعد میں احمدی ہو گیا لیکن دوست احباب مجھے چھوڑ گئے۔مجھے اس کی پرواہ نہیں۔صرف خدا کی رضا چاہتا ہوں۔اور بیعت کی درخواست کی۔زمبابوے کے مبلغ لکھتے ہیں کہ یہاں مسلم یو تھ کے ایک عہدیدار نے بیعت کی۔اسلام قبول کرنے سے پہلے جب وہ ایک عیسائی چرچ کے ممبر بنے تو ان کو Baptise کرنے کے لئے پادری نے تاریخ مقرر کی۔اس دن اچانک پادری صاحب بیمار ہو گئے۔دوسری بار تاریخ مقرر کی تو پادری صاحب کی والدہ بیمار ہو گئیں۔تیسری بار جب تاریخ مقرر کی تو اس زور کی بارش ہوئی کہ کوئی وہاں نہ جا سکا۔اس کے بعد اس نوجوان نے خواب میں دیکھا کہ ایک مجمع ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام ایک طرف کھڑے ہیں اور اُسے اپنی طرف بلاتے ہیں۔یہ نوجوان کو شش کرتا ہے کہ مسیح تک پہنچے لیکن پہنچ نہیں سکا۔اسی اثناء میں آنکھ کھل گئی۔اس کے بعد اُس نے عیسائیت کو چھوڑ دیا۔اب بیعت کرنے سے پہلے اس نوجوان نے خواب دیکھا کہ اس کا سارا جسم گردن تک دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور اُس کو کسی نے پکڑ کر دلدل سے نکال دیا ہے۔تو ہمارے مبلغ نے اُن سے پوچھا کہ تمہیں ان کا چہرہ یاد ہے کہ دلدل سے کس نے نکالا تھا؟ کہنے لگا ہاں یاد ہے۔جب اُنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی تو کہنے لگے۔یہی چہرہ تھا جنہوں نے مجھے پکڑ کے دلدل سے نکالا تھا۔پھر برکینا فاسو میں ڈوری سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں پوئی ٹینگا ہے۔اس کے تبلیغی دورے کے دوران ایک بزرگ نے بیعت کی جن کی عمر پینسٹھ سال ہو گی۔بیعت کے بعد وہ بتانے لگے کہ آپ لوگوں کے