خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 29

خطبات مسرور جلد نهم 29 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء نے دیا ہے۔اپنی زبانوں کو آنحضرت صلی علیکم پر درود بھیجنے سے تررکھنا ہے تاکہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کا قرب پاسکیں، تا کہ ہم ان برکتوں سے فیض پاسکیں جو اللہ تعالیٰ کے اس پیارے نبی کے ساتھ وابستہ ہیں۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ نیم کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آپ کے اعمالِ صالحہ کی تعریف تمام حدود و قیود سے باہر تھی۔اس لئے آپ کو یہ مقام ملا کہ اللہ اور اس کے فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہیں۔اور اس لئے مومنوں کو بھی حکم ہے کہ درود بھیجیں اور درود بھیجتے ہوئے اُن احسانات کو سامنے رکھیں جو آنحضرت صلی ا ہم نے ہم پر کئے۔ہمیں ایک ایسے دین سے آگاہ کیا جو خد اتعالیٰ سے ملانے والا ہے۔ہمارے سامنے وہ اخلاق رکھے جو خدا تعالیٰ کو پسند ہیں۔جہاں آپ صلی لی تم نے خدا تعالیٰ کی غیرت اور توحید کے قیام کے لئے نمونے قائم کئے تو عبد کامل بن کر عبادتوں کے حق بھی ادا کئے۔اللہ تعالیٰ کی خشیت کا اعلیٰ نمونہ ہمارے سامنے قائم فرمایا تو اللہ تعالیٰ کی حمد وشکر کا بے مثال اسوہ بھی ہمارے سامنے پیش فرمایا۔قرآنِ کریم میں خدا تعالیٰ نے مومنوں کو ہر حالت میں سچائی پر چلنے ، امانت و دیانت کا حق ادا کرنے ، اپنے عہدوں کو پورا کرنے ، رحمی رشتوں کا پاس کرنے ، مخلوق خدا کی ہمدردی اور اُن سے محبت اور شفقت کا سلوک کرنے ، صبر اور حوصلہ دکھانے ، عفو کا سلوک کرنے ، عاجزی اور انکساری دکھانے اور ہر حالت میں خدا تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے علاوہ بہت سارے احکامات ہیں تو اس کی اعلیٰ ترین مثالیں بھی آپ نے ہمارے سامنے قائم فرمائیں۔پس مومن کا یہ فرض ہے کہ جب اپنے سید و مولی صلی یکم پر درود بھیجے تو ان نمونوں کو قائم کرنے کی کوشش کرے، تب اُس صدق و وفا کا اظہار ہو گا جو ایک مومن اپنے آقا حضرت محمد مصطفی صل اللی کنم۔کرتا ہے۔اور پھر آپ کے واسطے سے خدا تعالیٰ سے صدق و وفا کا یہ تعلق ہے۔اور جب یہ ہو گا تو پھر ہی آنحضرت صلی علیہ کم پر بھیجا جانے والا درود، وہ درود کہلائے گا جو شکر گزاری کے طور پر ہو گا۔یہ ہے ایک مومن کا آنحضرت صلی اللہ ﷺ سے عشق و وفا کا تعلق۔یہ ہے آنحضرت علی ایم کی ناموس رسالت کہ غیر کا منہ بند کرنے کے لئے ہم اسوہ رسول پر عمل کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ اپنے ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لئے انصاف کی دھجیاں اڑائیں اور غیر کو اپنے اوپر انگلی اٹھانے کا موقع دیں۔اور صرف اپنے اوپر ہی نہیں بلکہ اپنے عملوں کی وجہ سے اپنے پیارے آقاسید المعصومین کے متعلق دشمن کو بیہودہ گوئی یا کسی بھی قسم کے ادب سے گرے ہوئے الفاظ کہنے کا موقع دیں۔اگر مخالفین اسلام کو ہماری کسی کمزوری کی وجہ سے آپ مکئی ایم کے بارے میں کچھ بھی کہنے کا موقع ملتا ہے تو ہم بھی گناہگار ہوں گے۔ہماری بھی جواب طلبی ہو گی کہ تمہارے فلاں عمل نے دشمن کو یہ کہنے کی جرآت دی ہے۔کیا تم نے یہی سمجھا تھا کہ صرف تمہارے کھو کھلے نعروں اور بے عملی کے نعروں سے رسول اللہ صلی علیم سے پیار کا اظہار ہو جائے گا یا تم پیار کا اظہار کرنے والے بن سکتے ہو؟ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں۔اللہ تعالیٰ تو عمل چاہتا ہے۔پس مسلمانوں کے لئے یہ بہت بڑا خوف کا مقام ہے۔باقی جہاں تک دشمن کے بعضوں، کینوں اور اس وجہ سے میرے پیارے آقا صلی علی ایم کے متعلق کسی بھی قسم کی دریدہ دہنی کا تعلق ہے ، استہزاء کا تعلق ہے اُس کا اظہار ، جیسا میں نے بتایا، اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر فرما دیا ہے کہ ان لوگوں کے لئے میں کافی ہوں۔