خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 333

333 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم جولائی 2011ء میں سوچوں کہ میرے احمدی ہونے سے پہلے اگر میرے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہو تا اور میرا بٹوہ چوری ہو جاتا تو میں نے وہاں کھڑے ہوئے ہر شخص سے لڑنا تھا اور شور مچا کر انتظامیہ کی بھی بری حالت کر دینی تھی لیکن احمدیت نے مجھے صبر سکھایا ہے اور میں نے اس بات کو محسوس نہیں کیا۔کہنے لگا یہ بہت بڑی تبدیلی ہے جو میں نے احمدی ہونے کے بعد اپنے اندر محسوس کی ہے کہ احمدیت کی وجہ سے انتہائی عصیلہ ہونے والا شخص اتنا نرم ہو جائے۔یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔تو یہ سبق ہے اُن احمدیوں کے لئے بھی جو لمبا عرصہ تربیت میں رہنے کے باوجو د غصے پر کنٹرول نہیں رکھتے اور ذرا ذراسی بات پر لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔پس احمدی ہونے کی ایک پہچان اپنے جذبات کو کنٹرول کرنے کی بھی بنائیں کہ ہم احمدی ہیں، ہم نے اپنے جذبات کو کنٹرول رکھنا ہے ، صبر کا مظاہرہ کرنا ہے۔بہر حال جو بعض نقائص سامنے آتے ہیں اُس سے بعض تربیتی پہلو بھی نکل آتے ہیں، بعض سبق بھی مل جاتے ہیں۔عمومی طور پر احباب جماعت نے جو تعاون کیا ہے اُس پر انتظامیہ کو بھی اُن کا شکر گزار ہونا چاہئے اور کارکنان نے جس محنت اور ذمہ داری سے عمومی طور پر اپنی ڈیوٹی دی ہے اُس پر شاملین جلسہ کو بھی اُن کا شکر گزار پر ہونا چاہئے۔جرمنی میں افراد جماعت میں عمومی طور پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ اخلاص و وفا کے جذبات ابھرے ہوئے ہیں۔اس کے نظارے میں نے جلسہ پر بھی دیکھے ہیں اور مختلف جگہوں پر مسجدوں کے افتتاح کے لئے گیا ہوں تو وہاں بھی دیکھے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس اخلاص و وفا کو ہمیشہ بڑھاتا چلا جائے۔خاص طور پر نوجوانوں کو میں نے اخلاص میں بڑھا ہوا پایا ہے۔جماعت میں کمزور لوگ بھی بیشک ہوتے ہیں لیکن ایک کمزور ہو تا ہے ، ایک ٹیڑھا پن دکھاتا ہے تو اللہ تعالی سینکڑوں ہزاروں مخلص وفا شعار کھڑے کر دیتا ہے۔ایسے لوگ کھڑے کر دیتا ہے جو اپنے نمونے دکھانے والے ہوتے ہیں۔پس یہ خوبصورتی ہے جماعت احمدیہ کی جو آج ہمیں کسی اور جگہ نظر نہیں آتی۔اللہ تعالیٰ اس میں مزید نکھار پیدا کرتا چلا جائے۔جلسہ کے حوالے سے ایک اہم کام وائنڈ آپ (Wind Up) کا ہوتا ہے اور خاص طور پر اُس وقت جب جگہ محدود دنوں کے لئے کرائے پر لی گئی ہو اور اس دفعہ نئی جگہ کے حوالے سے یہ فکر بھی تھی کہ تمام جلسہ گاہ کو وقت پر سمیٹنا ہے تا کہ ایک تور تم زیادہ خرچ نہ ہو اور اس کے لئے صرف دو دن تھے، نہیں تو زائد کرایہ دینا پڑنا تھا۔دوسرے اس لئے بھی کہ اُن لوگوں پر جن سے اب تعلق بن رہے ہیں جماعت کا منفی اثر نہ پڑے۔الحمد للہ کہ اندرونی ہال تو کارکنان اور احباب جماعت نے وقار عمل کر کے میری رپورٹ کے مطابق دو دن کے اندر خالی کر دیا ہے اور باہر کی جگہ میں گو ایک زائد دن لگ گیا لیکن جتنا وسیع انتظام تھا اُس لحاظ سے یہ بھی اچھے وقت میں ہو گیا۔اس دفعہ جلسے کے پہلے کے وقار عمل میں بھی اور بعد کے وائنڈ آپ میں بھی پاکستان سے نئے آئے ہوئے اسائلم لینے والوں کا بھی بہت بڑا طبقہ شامل ہوا ہے، انہوں نے بڑی محنت کی ہے۔وہ ہمیشہ یہ یاد رکھیں، ان اسا ئلم والوں سے میں کہتا ہوں کہ باہر آکر اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ جماعت کے بغیر اُن کی کوئی زندگی ہے۔جماعت کے بغیر اُن