خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 332

332 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم مجبوری تھی آواز ٹھیک نہیں ہو سکتی تھی، لیکن اس کے باوجود بڑی خاموشی اور تحمل سے خواتین بیٹھی رہیں اور اتنی خاموشی اور محمل میں نے پہلی دفعہ جرمنی کی عورتوں میں دیکھا ہے۔بعض کے نزدیک شاید اس کی یہ بھی وجہ ہو کہ ہال ائیر کنڈیشن تھے اور باہر گرمی تھی اس لئے بیٹھنا ہی بہتر تھا لیکن ہمیں حسن ظن سے بھی کام لینا چاہئے۔عمومی طور پر جب سے میں نے لجنہ کو تقریباً تین چار سال پہلے یہ وار ننگ دی تھی کہ اگر شور کیا تو ان کا جلسہ نہیں ہو گا، بہتری کی طرف بہت زیادہ رجحان ہے۔ایک نقص اس وجہ سے بھی پیدا ہوا کہ اس دفعہ بچوں کو بھی ایک ہی ہال میں بٹھا دیا گیا۔گو پارٹیشن کی گئی تھی لیکن پردے سے آواز نہیں رک سکتی اور بچوں کی جگہ پر ظاہر ہے کہ شور ہوتا ہے۔یہ شور بعض دفعہ مین ہال (Main Hall) میں بھی ڈسٹرب کرتا تھا۔اس کا بھی آئندہ سال کوئی بہتر انتظام ہونا چاہئے۔باقی کچھ اور چھوٹی موٹی کمیاں اور خامیاں ہیں جن کو دور کرنے کی انتظامیہ کو آئندہ سال کوشش کرنی چاہئے اور لوگوں سے پوچھنا چاہئے کہ اگر انہوں نے کوئی چیز دیکھی ہے تو بتائیں تا کہ آئندہ سال بہتر انتظامات ہو سکیں۔جلسے کی لال کتاب میں یہ درج کریں اور ان کی بہتری کے بارے میں جلسہ سالانہ کی جو کمیٹی ہے وہ غور کرے۔ہمارے قدم ہمیشہ بہتری کی طرف بڑھنے چاہئیں۔عمومی طور پر تو اللہ تعالیٰ یہ نظارے ہمیں ہر جگہ دکھاتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بہتری کی طرف قدم بڑھ رہے ہیں اور جو غیر مہمان جرمنی سے بھی اور دنیا کے مختلف ممالک سے خاص طور پر ہمسایہ ممالک سے آئے ہوئے تھے ، انہوں نے اچھا تاثر لیا ہے، اُن کو تو ہمارے انتظامات بہت اچھے لگے ہیں لیکن اپنے اندر خامیاں تلاش کرتے ہیں تا کہ مزید بہتری پیدا ہو۔میں نے مہمانوں میں سے جس سے بھی پوچھا ہے وہ انتظامات اور لوگوں کے آپس کے محبت اور پیار اور ڈیوٹی دینے والوں کے رویوں سے بہت اچھا تاثر لے کر گئے ہیں۔پس یہ جلسے بھی ہماری تبلیغ کا ذریعہ بنتے ہیں اس لئے ہر احمدی کو جیسا کہ میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ ان دنوں میں خاص طور پر اس سوچ کے ساتھ رہنا چاہئے کہ ہم احمدیت کے سفیر ہیں، ہمارے نمونے ہیں جو دنیا نے دیکھتے ہیں۔اس دفعہ بلکہ ہر دفعہ ہوتا ہے ہر جلسے پر ، بعض بیعتیں بھی یہ سارا ماحول دیکھ کر ہوئی ہیں۔بعض لوگ جو قریب تھے انہوں نے جب جلسے کا ماحول دیکھا اور لوگوں کے رویے دیکھے تو اُن پر اچھا نیک اثر ہوا اور انہوں نے بیعت کرنے کا اظہار کیا اور جلسہ کے بعد انہوں نے فوراً بیعت کر لی۔لیکن ایک ایسا واقعہ بھی میرے علم میں آیا ہے کہ کسی کا بٹوہ چوری ہو گیا۔ہو سکتا ہے کچھ اور واقعات بھی ایسے ہوئے ہوں اور شرم کی بات یہ ہے کہ وہ جس کا بٹوہ چوری ہو اوہ نو مبائع جر من نوجوان تھا۔اُس نے اس واقعہ کو اپنی تربیت کے اثر کے طور پر بیان کیا ہے۔لیکن خدمت خلق کی ڈیوٹی دینے والوں کے لئے یہ بڑی فکر کی بات ہے۔ایسے واقعات ہوتے تو ہیں لیکن اگر پوری نگرانی کی جائے اور اس جگہ تو پوری نگرانی ہو سکتی تھی تو ایسے واقعات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے بلکہ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ سو فیصد ختم کئے جائیں۔اُس نوجوان نے تو جس کا میں ذکر کر رہا ہوں مجھے اس طرح بیان کیا تھا کہ میں بہت سخت غصے والا تھا، ہر چھوٹی چھوٹی بات پر مجھے غصہ آجایا کرتا تھا اور بڑا لڑنے اور مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتا تھا لیکن یہ سب باتیں احمدی ہونے سے پہلے کی تھیں۔کہنے لگا کہ اگر