خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 329 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 329

خطبات مسرور جلد نهم 329 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم جولائی 2011ء پس ہمیشہ ہر احمدی کو جو کینیڈا، امریکہ یا یورپ کے امیر ممالک میں رہتا ہے یا دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتا ہے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے غلبے کے ہتھیار نہ مغربی ملکوں میں آنا ہے، نہ یہاں کی آسانیاں ہیں اور آسائشوں کے ساتھ یہاں رہنے میں ہے ، نہ یہ غلبہ کسی دولت سے ہونا ہے ، نہ یہ غلبہ کسی دنیاوی کوشش سے ہونا ہے بلکہ غلبے کے ہتھیار جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ تقویٰ میں بڑھنا ہے۔اور اس تقویٰ میں بڑھنے سے یہ غلبہ ہونا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سال کے چند دن لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے، اپنی جماعت کے افراد کو تقویٰ کی ٹریننگ دینے کا ارشاد فرمایا ہے ، یہ اس لئے ہے کہ جو زنگ لگے ہیں وہ دھل جائیں۔آپس میں مل کے بیٹھیں، ایک دوسرے کی باتیں سنیں، محبت اور پیار کی فضا پید اہو اور ایک نئے سرے سے ایک احمدی چارج ہو کر پھر اپنے مقصد پیدائش کے حصول کی کوشش کرے۔اپنی علمی پیاس بجھائے، اپنی تربیت کے سامان کرے۔روحانیت میں آگے بڑھنے کی طرف قدم بڑھائے۔پس ایک ہفتہ بعد جرمنی والے بھی صرف جرمنی کے کامیاب اور بارونق جلسے کا صرف ذکر ہی باقی نہ رکھیں۔صرف یہی یاد نہ رہے کہ فلاں مقرر کی تقریر اچھی تھی، فلاں نے نظم اچھی پڑھی، بلکہ جو کچھ سنا ہے اسے اب اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور یہی جذبہ ہے جسے لے کر کینیڈا اور امریکہ کے احمدی اپنے جلسوں کی کارروائی سنیں۔جب یہ حالتیں ہوں گی تو ہم حقیقی رنگ میں اُس شکر گزاری میں شامل ہونے والوں میں سے ہو جائیں گے جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ طور پر یہ عرض کیا ہے کہ کس طرح تیر اکروں اے ذوالمنن شکر و سپاس ”۔ہر لمحہ ہمیں خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اپنے دل و دماغ کو اسی آس سے تازہ رکھنا چاہئے۔ہر لمحہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی یاد سے اپنی زبانوں کو تر رکھ کر اپنی شکر گزاری کا اظہار کرنا چاہئے۔ہر لمحہ ہمیں اپنے عملوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھال کر اپنے جسم کے ذرّہ ذرّہ کو خدا تعالیٰ کا شکر گزار بنانا چاہئے اور پھر جب ہماری یہ حالت ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ بھی ہمیں اپنی رحمتوں اور فضلوں کی چادر میں مزید لپیٹ لے گا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاذْكُرُونِي اذْكُرُكُم۔پس تم میر اذکر کیا کرو میں بھی تمہیں یادرکھوں گا۔وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ۔اور میرا را شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔پس جب بندہ خدا تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا کوئی عمل بغیر جزا کے نہیں جانے دیتابلکہ کئی سو گنا تک جزا دیتا ہے۔اُس سے بڑھ کر پھر اللہ تعالیٰ ذکر کا وعدہ فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا کیا ہے؟ جب اللہ کہے کہ میں بندے کا ذکر کرتا ہوں تو وہ ذکر کیا ہے ؟ جب اللہ تعالیٰ ذکر کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے انعامات سے نوازتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ بندے کے مسلسل ذکر کی وجہ سے اُسے اپنے انعامات سے نوازتا ہے اُسے یادرکھتا ہے تو پھر نیکیاں بجالانے اور تقویٰ پر چلنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔نئے معیار قائم ہونے لگتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے قریب کرنے کے نئے نئے راستے دکھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو ہر وقت یادرکھتا ہے ، مشکلات سے اُسے نکالتا ہے، آفات سے اُسے بچاتا ہے۔