خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 328

328 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم میں منعقد ہونے والے جلسے بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کے ایک لامتناہی سلسلے کو لئے ہوئے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی اپنے بعض خطبات میں بیان کیا ہے کہ بحیثیت جماعت آج جماعت احمدیہ ہی ہے جس پر چوبیس گھنٹے دن چڑھارہتا ہے۔یہاں اگر اس وقت دو پہر کا وقت ہے اور سورج ڈھل رہا ہے تو امریکہ اور کینیڈا میں یہ سورج ضحی کا نظارہ پیش کر رہا ہے۔اور صرف جماعت احمدیہ ہے جس میں بحیثیت جماعت اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوئی نہ کوئی پروگرام ہر وقت بن رہے ہیں یا پیش کئے جارہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کو گنا اور اُن کا شکر کرنا، اُن کا احاطہ کرنا ہمارے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ کس طرح تیر ا کروں اے ذوالمن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127) پس اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ یہ سلوک آج بھی بڑی شان کے ساتھ پورا ہو رہا ہے۔ہر روز نہیں بلکہ ہر لمحہ شکر گزاری کے نئے مضامین دکھاتے ہوئے گزرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کو لے کر آتا ہے اور جب تک ہم اپنے اس مقصد کے ساتھ چھٹے رہیں گے جس کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تھے ہم یہ نظارے انشاء اللہ تعالیٰ دیکھتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں پر ہم کس طرح شکر گزار ہو سکتے ہیں، اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے“۔پھر فرمایا: ”اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں تو میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو، کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 49۔مطبوعہ ربوہ) پس اس شکر گزاری کے طریق کو ہم نے اپنا نا ہے اور اپنی زندگیوں کا حصہ بناتا ہے۔انہوں نے بھی جو جلسوں میں شامل ہونے کے لئے جمع ہو رہے ہیں اور انہوں نے بھی جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا اور اُن کے جلسے خیریت سے اختتام کو پہنچے۔پس ہر احمدی جو جلسے میں شامل ہوا ہے اب اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھانے کی ہمیشہ کوشش کرتارہے اور پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہے جو ہمارے غلبے میں روک ڈال سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدے کے مطابق غلبہ تو انشاء اللہ تعالی، اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمانا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر ہم تقویٰ سے چھٹے رہے تو ہم بھی اُس غلبے کا حصہ بن جائیں گے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو عطا فرمانا ہے۔