خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 294
294 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم موعود آنے والا ہے۔چودھویں صدی کا مجدد آنے والا ہے۔فرماتے ہیں کہ ”ورنہ ہمارا یہ مطلب نہیں ہو تا کہ صرف یہی مجدد ہیں باقی دنیا مجددین سے خالی رہی ہے۔ہر شخص جو الہام کے ساتھ تجدید دین کا کام کرتا ہے وہ روحانی مجدد ہے۔ہر شخص جو اسلام اور مسلمانوں کے لئے تجدید کا کوئی کام کرتا ہے وہ مجدد ہے چاہے وہ روحانی مجدد نہ ہو۔جیسے میں نے کئی دفعہ مثال دی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ اور نگزیب“ (جو بادشاہ تھاوہ) ” بھی مجدد تھا۔حالانکہ اور نگزیب کو خود الہام کا دعویٰ نہیں تھا“۔( تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 199 ) پس یہ حقیقت ہے مجددین کی کہ ایک ایک وقت میں کئی کئی ہو گئے ، بلکہ ہزاروں بھی ہو سکتے ہیں۔جبکہ خلیفہ ایک وقت میں ایک ہی ہو گا۔اب حیثیت اُس کی بڑی ہے جو ایک وقت میں ایک ہو یا وہ جو ایک وقت میں کئی کئی ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خلافت کو مقام دیا ہے کہ وہ علیٰ منہاج نبوت ہو گی۔مجددیت کو کوئی اہمیت نہیں دی۔اور جو حدیث ہے مجدد کے بھیجے جانے کے متعلق اُس کے الفاظ یہ ہیں۔رض حضرت ابو ہریرۃ سے یہ روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایسا مجدد بھیجے گا جو اُس اُمت کے دین کی تجدید کرے گا۔(سنن أبي داؤد کتاب الملاحم باب ما يذكر في قرن المائة حديث 4291) اب یہاں ترجمے میں تو انہوں نے واحد کا صیغہ استعمال کیا ہے لیکن یہاں کئی لوگ بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ عربی دان کہتے ہیں مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِینَھا میں مَن جو ہے اس میں جمع کا صیغہ بھی استعمال ہو سکتا ہے۔تو جو امت کے دین کی تجدید کرے گا یعنی اُمت میں جو بگاڑ پیدا ہو گیا ہو گا اُس کی اصلاح کرے گا اور دین کی رغبت اور اُس کے لئے قربانی کو بڑھائے گا۔اب ہر صدی کے سر پر مجدد کہا ہے، یا ہر صدی میں مجدد کہا ہے، یا مجد دین کا کہا ہے تو اس کو اگر خلافت علی منہاج نبوت والی حدیث سے ملا کر پڑھیں تو اُس میں پہلے نبوت، پھر خلافت علی منہاج نبوت کا بیان فرمایا۔پھر اس نعمت کے اُٹھ جانے کے بعد بادشاہت کا، ایذارسان بادشاہت ہے۔اب جب تک خلافت علی منہاج نبوت تھی پھر اُس کے بعد صحابہ بھی زندہ رہے ، بلکہ تابعین بھی رہے، تبع تابعین بھی زندہ رہے ، ایک صدی گزر گئی، دین میں اتنا بگاڑ پیدا نہیں ہوا تھا۔اُس وقت تک مجدد کے لئے نہیں کہا۔صدی گزرنے کے بعد فرمایا کہ مجدد پیدا ہو گا۔کیونکہ مجددین کی پہلی صدی میں ضرورت نہیں تھی۔مجدد آنے کی پیشگوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو سال گزرنے کے بعد کی فرمائی ہے۔گویا یہ ایک لحاظ سے خلافت کے ختم ہونے کی پیشگوئی بھی تھی اور بدعات کے اسلام میں داخل ہونے کی پیشگوئی بھی تھی کہ زیادہ کثرت سے بدعات داخل ہو جائیں گی۔مختلف فرقے بن جائیں گے۔گو یہ بدعت ایسی چیز تھی جس کی اصلاح کے لئے مجددین نے پیدا ہونا تھا اور پھر یہ مجددین کا سلسلہ اس اصلاح کے لئے شروع ہوا۔اور جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی لکھا ہے تاریخ بھی ثابت کرتی ہے کہ ایک ایک وقت میں کئی کئی مسجد دین ہوئے۔لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں مسیح موعود اور عظیم الشان مجدد اور آخری ہزار سال کے مجدد کے آنے کی خوشخبری دی تو پھر دوبارہ خلافت علی