خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 293

خطبات مسرور جلد نهم 293 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2011ء رہے ہیں۔گویا تجدید دین کے یہ چھوٹے چھوٹے دیے یاlamp تو ہر جگہ جل رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں تو تجدید دین کے لئے ایک ایک وقت میں سینکڑوں نبی اور مجدد گزرے ہیں ، وہی نبی جو تھے وہ خلیفہ بھی کہلاتے تھے اور مجد د بھی کہلاتے تھے۔(ماخوذ از تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 123) اسلام میں ہزاروں کیوں نہیں ہو سکتے ؟ الفاظ میرے ہیں، مفہوم کم و بیش یہی ہے۔اور یہ جو سوال اٹھتا ہے کہ ہر صدی کے مجدد تھے ، اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے بارہ صدیوں کے بارہ مجد د گزرے ہیں اور چودھویں صدی کے تیرھویں مجدد آپ ہیں۔تو تاریخ اسلام سے تو یہ ثابت ہے کہ ہر علاقے میں مجد دین پیدا ہوئے ہیں یہ صرف بارہ کا سوال نہیں ہے بلکہ ایک ایک وقت میں کئی کئی مسجد دین پیدا ہوئے ہیں۔دین کی اصلاح کے لئے جہاں جہاں ضرورت پڑتی رہی اللہ تعالیٰ لوگوں کو کھڑا کر تا رہا۔لیکن پھر سوال یہاں یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں بھی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی لکھا ہے کہ ہم بارہ مجد دین کیوں گنتے ہیں ؟ عربوں میں تو اکثریت ایسی ہے جو اس بات کو نہیں مانتی کہ یہ بارہ مسجد دتھے ، خاص طور پر اس ترتیب سے جس سے ہم ہندوستانی مجد دین گنتے ہیں۔اکثریت مسلمانوں کی یہ تو مانتے ہی نہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ایک بہت اچھا جواب دیا ہے۔آپ ایک جگہ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ ہندوستانی بارہ مجددین کے نام پیش کرتے ہیں کہ شاید یہ تمام دنیا کے لئے تھے حالانکہ یہ غلط ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : مسجد دین کے متعلق لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ایک ہی مجد د ساری دنیا کی طرف مبعوث ہو تا ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہر ملک اور ہر علاقے میں اللہ تعالیٰ مجدد پیدا کیا کرتا ہے مگر لوگ قومی یا ملکی لحاظ سے اپنی قوم اور اپنے ملک کے مجدد کو ہی ساری دنیا کا مجدد سمجھ لیتے ہیں ، حالانکہ جب اسلام ساری دنیا کے لئے ہے تو ضروری ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں اور مختلف ملکوں میں مختلف مجد دین کھڑے ہوں۔حضرت سید احمد صاحب بریلوی بھی بے شک مجدد تھے مگر وہ ساری دنیا کے لئے نہیں تھے بلکہ صرف ہندوستان کے مجدد تھے۔اگر کہا جائے کہ وہ ساری دنیا کے مجدد تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے عرب کو کیا ہدایت دی۔انہوں نے مصر کو کیا ہدایت دی۔انہوں نے ایران کو کیا ہدایت دی۔انہوں نے افغانستان کو کیا ہدایت دی۔ان ملکوں کی ہدایت کے لئے انہوں نے کوئی کام نہیں کیا لیکن اگر ان ممالک کی تاریخ دیکھی جائے تو ان میں بھی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو صاحب وحی اور صاحب الہام تھے اور جنہوں نے اپنے ملک کی رہنمائی کا فرض سر انجام دیا۔پس وہ بھی اپنی اپنی جگہ مجدد تھے۔“ وہ لوگ چاہے انہوں نے اعلان کیا یا نہیں، کسی نے اُن کے بارے میں کہا یا نہیں، جنہوں نے بھی دین کی رہنمائی کا فرض ادا کیا، اصلاح کا فرض ادا کیا وہ اپنی اپنی جگہ مجدد تھے۔”اور یہ بھی اپنی جگہ مجدد تھے “ یعنی ہندوستان والے۔” فرق صرف یہ ہے کہ کوئی بڑا مجدد ہوتا ہے اور کوئی چھوٹا۔ہندوستان میں آنے والے مجد دین کی اہمیت اس لئے ہے کہ وہ اُس ملک میں آئے جہاں مسیح موعود نے آنا تھا اور اس طرح اُن کا وجو د حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے بطورِ ارباص تھا۔آپ سے پہلے آنے والے تھے، بتانے والے تھے کہ مسیح