خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 232
232 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے لئے کی گئی دعاؤں کا بھی وارث بنتا ہے۔اس کے یہ نتائج پید اہوتے ہیں اور پھر وہ نتائج نظر آتے ہیں۔کیونکہ صرف اسی بات پر منحصر نہیں کر دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور دعاہی کافی ہے اور خود کچھ نہ کیا جاوے۔اور نہ یہی فلاح کا باعث ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور دعا کی ضرورت ہی نہ سمجھی جاوے“۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 701 تا 703 مطبوعہ ربوہ) پس انسان کے اپنے عمل، اُس کا اللہ تعالیٰ کے حضور خالص ہو کر جھکنا، اُس کی عبادت کرنا، اُس سے اپنی حاجات مانگنا یہ چیزیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا حقیقی فرد بناتی ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور چھوٹا سا اقتباس ہے۔آپ نے فرمایا: دعا اُسی کو فائدہ پہنچا سکتی ہے جو خود بھی اپنی اصلاح کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے سچے تعلق کو قائم کرتا ہے۔پیغمبر کسی کے لئے اگر شفاعت کرے لیکن وہ شخص جس کی شفاعت کی گئی ہے اپنی اصلاح نہ کرے اور غفلت کی زندگی سے نہ نکلے تو وہ شفاعت اُس کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی“۔( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 172 مطبوعہ ربوہ) ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک خاص دعا ہوتی ہے جو کہ وہ نبی مانگتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی اس خاص دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لئے قیامت تک بچا کر رکھوں گا۔(صحیح مسلم کتاب الايمان باب اخْتِباءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ حديث 487) اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری تا قیامت آنے والی نسلوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں حقیقی رنگ میں شامل ہونے والا بنائے تا کہ شفاعت سے فیض پانے والے ہوں۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شفاعت کے تعلق سے بعض دعائیں پیش کر تا ہوں جو آئینہ کمالات اسلام میں درج ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔رَبِّ اجْزِ مِنَّا هَذَا الرَّسُوْلَ الْكَرِيمَ خَيْرَ مَا تَجْزِى أَحَدًا مِّنَ الْوَرى وَتَوَفَّنَا فِي زُمْرَتِهِ وَاحْشُرْنَا فِي أُمَّتِهِ وَاسْقِنَا مِنْ عَيْنِهِ وَاجْعَلْهَا لَنَا السُّقْيَا وَاجْعَلْهُ لَنَا الشَّفِيْعَ الْمُشَفَّعَ فِي الْأَوْلِى وَالْدُخْرِى رَبِّ فَتَقَبَّلْ مِنَّا هُذَا الدُّعَاءَ وَأَوِنَا فِي هَذَا الذُّرُى ی۔( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ 366،365) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے رب اس معزز رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف سے وہ بہترین جز اعطا فرماجو مخلوق میں سے کسی کو دی جاسکتی ہے اور ہم کو اس کے گروہ میں سے ہوتے ہوئے وفات دے اور ہم کو اس کی امت میں سے ہوتے ہوئے قیامت کے دن اُٹھا اور ہم کو اس کے چشمے سے پلا۔اور اس چشمے کو ہمارے لئے سیر ابی کا ذریعہ بنا دے اور اُسے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ہمارے لئے شفاعت کرنے والا اور جس کی