خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 231
231 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہے“۔شفاعت کے مسئلے سے نیک اعمال بجالانے کی مزید تحریک پیدا ہوتی ہے۔فرمایا ”: شفاعت کے مسئلہ کے فلسفہ کو نہ سمجھ کر احمقوں نے اعتراض کیا ہے۔اور شفاعت اور کفارہ کو ایک قرار دیا۔حالانکہ یہ ایک نہیں ہو سکتے ہیں۔کفارہ اعمال حسنہ سے مستغنی کرتا ہے“۔( فلاں شخص نے جو کفارہ ادا کر دیا اور میر اجرم لے لیا، اس لئے مجھے نیکیاں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔تو یہ کفارہ ہے۔اب عیسائی جو مرضی کرتے رہیں۔حضرت عیسیٰ اُن کی خاطر لعنتی موت مر گئے ( نعوذ باللہ) تو کفارہ ہو گیا۔اس لئے کفارے نے تو اعمال حسنہ سے ایک انسان کو فارغ کر دیا)۔فرمایا: ”اور شفاعت اعمال حسنہ کی تحریک“ ( کرتی ہے)۔”جو چیز اپنے اندر فلسفہ نہیں رکھتی ہے وہ بیچ ہے۔ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ اسلامی اصول اور عقائد اور اُس کی ہر تعلیم اپنے اندر ایک فلسفہ رکھتی ہے اور علمی پیرایہ اس کے ساتھ موجود ہے جو دوسرے مذاہب کے عقائد میں نہیں ملتا“۔فرمایا: ”شفاعت اعمال حسنہ کی محترک کس طرح پر ہے ؟ ( یہ سوال اُٹھتا ہے ) اس سوال کا جواب بھی قرآن شریف ہی سے ملتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ کفارہ کا رنگ اپنے اندر نہیں رکھتی “ (جو عیسائی مانتے ہیں)۔کیونکہ اس پر حصر نہیں کیا جس سے کاہلی اور سستی پید اہوتی ہے“۔( یہ جو کفارہ ہے اگر اس پر انحصار کریں تو کاہلی اور سستی پیدا ہوتی ہے) بلکہ فرمایا اِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيب (البقرة:187)۔یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں تجھ سے سوال کریں کہ وہ کہاں ہے ؟ تو کہہ دے کہ میں قریب ہوں۔قریب والا تو سب کچھ کر سکتا ہے۔دور والا کیا کرے گا؟ اگر آگ لگی ہوئی ہو تو دور والے کو جب تک خبر پہنچے اس وقت تک تو شاید وہ جل کر خاک سیاہ بھی ہو چکے۔اس لئے فرمایا کہہ دو میں قریب ہوں۔پس یہ آیت بھی قبولیت دعا کا ایک راز بتاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت پر ایک ایمانِ کامل پید اہو اور اُسے ہر وقت اپنے قریب یقین کیا جاوے“۔اور ایمان ہو کہ وہ ہر پکار کو سنتا ہے۔”بہت سی دعاؤں کے رڈ ہونے کا یہ بھی بہتر ہے کہ دعا کرنے والا اپنی ضعیف الایمانی سے دعا کو مسترد کرالیتا ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ دعا کو قبول ہونے کے لائق بنایا جاوے۔کیونکہ اگر وہ دعا خدا تعالیٰ کی شرائط کے نیچے نہیں ہے تو پھر اس کو خواہ سارے نبی بھی مل کر کریں تو قبول نہ ہو گی اور کوئی فائدہ اور نتیجہ اس پر مرتب نہیں ہو سکے گا“۔(اس کو دعا قبول کروانے کے لئے اپنے آپ کو ان شرائط کے نیچے بھی لانا ہو گا اور شرائط وہی ہیں۔فَاتَّبِعُونِی۔میری پیروی کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو۔قرآنِ کریم پر عمل کرو)۔فرمایا: ”اب یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: صَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنَّ لَهُمْ (التوبة: 103)۔تیری صلوۃ سے اُن کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے“۔( تیری دعا سے اُن کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور جوش اور جذبات کی آگ سرد ہو جاتی ہے۔دوسری طرف فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي (البقرة: 187) کا بھی حکم فرمایا۔ان دونوں آیتوں کے ملانے سے دعا کرنے اور کرانے والے کے تعلقات پھر اُن تعلقات سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں، اُن کا بھی پتہ لگتا ہے“۔(ایک تو آپس میں دعا کرنے اور کرانے والے کے تعلقات کا پتہ لگتا ہے۔پھر اُن کے نتائج کا بھی پتہ لگتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے انسان مانگے، مکمل پیروی کرے، مکمل ایمان دکھائے تو پھر انسان