خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 220 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 220

خطبات مسرور جلد نهم 220 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء کروایا گیا تو اُسے سن کر بہت حیرانگی ہوئی کہ امام مہدی ہندوستان میں آئے ہیں اور مجھے خواب میں چمکتا ہوا روشن سورج بھی ہندوستان میں ہی دکھایا گیا ہے۔پھر اُس نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کر لی۔تو بہت سارے واقعات میں سے یہ چند واقعات میں نے لئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اب وقت آگیا ہے کہ پھر اسلام کی عظمت و شوکت ظاہر ہو اور اس مقصد کو لے کر میں آیا ہوں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ جو انوار اور برکات آسمان سے اتر رہے ہیں ، وہ اُن کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ وقت پر اُن کی دستگیری ہوئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اس مصیبت کے وقت اُن کی نصرت فرمائی۔لیکن اگر وہ خد اتعالیٰ کی اس نعمت کی قدر نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ اُن کی کچھ پرواہ نہ کرے گا۔وہ اپنا کام کر کے رہے گا مگر ان پر افسوس ہو گا“۔(لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 290) اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے سینے کھولے اور وہ حقیقت کو پہچاننے کے لئے اپنے خدا سے حقیقی رنگ میں مدد مانگنے والے بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ایمانوں کو بھی مضبوط کرتا چلا جائے۔ابھی جمعہ کی نماز کے بعد میں چند جنازہ غائب پڑھاؤں گا جن میں سے ایک ہمارے احمدی دوست سیریا کے ہیں احمد با کیر صاحب۔5 مارچ کو کینسر کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی تھی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔آپ کو بچپن سے ہی مسجد سے لگاؤ تھا۔(غیر احمدیوں کی مسجدوں سے لگاؤ تھا) لیکن اپنی سعید فطرت کے سبب جلد پہچان گئے کہ مولوی جو کچھ کہتے ہیں وہ خود نہیں کرتے۔ان کا عمل کچھ اور ہے اور ان کا کہنا کچھ اور ہے۔خدا تعالیٰ نے انہیں مولویوں سے متنفر کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا کہ دنیا داری میں نہیں پڑے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا تعارف جماعت احمدیہ سے کروادیا۔انہوں نے جماعت کے بارے میں استخارہ کیا۔جو مضمون بیان ہو رہا ہے یہ بھی اُسی کا ہی تسلسل ہے۔دیکھیں کہ استخارہ کیا تو خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا کہ آپ ایک مشہور سلفی مولوی کی طرف گئے ہیں اور قریب پہنچنے پر وہ مولوی غائب ہو گیا۔حضور علیہ السلام اس مرحوم نوجوان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا یہ مولوی دور کر دیا گیا ہے۔اس پر یہ نوجوان خواب سے بہت متاثر ہوئے اور 15 جولائی 2009ء کو جب صرف 17 سال ان کی عمر تھی، اس میں انہوں نے بیعت کر لی۔باوجود اس کے کہ آپ کینسر کے مریض تھے۔تبلیغ کا بڑا جوش تھا۔جو مولوی بھی آپ کو مرتد کرنے کے لئے آیا وہ آپ کے سامنے کھڑا نہ ہو سکا۔بڑی سچی خوا ہیں آتی تھیں۔بعض دوستوں نے بتایا کہ آجکل جو ملک کے ، سیریا کے حالات ہیں، اس بارے میں بھی انہوں نے ایک سال قبل ہی خواب کی بنا پر بعض دوستوں کو بتادیا تھا۔تو ایک تو ان کا جنازہ ہو گا۔دوسرا تامر الراشد صاحب کا ہے۔یہ 8 اپریل 2011ء کو سیریا کے شہر حمص کے مختلف گلی محلوں میں جو جلوس نکالے جارہے ہیں ، شور شرابہ ہو رہا ہے ، اندھا دھند فائرنگ ہو رہی ہے تو عمارتوں کی چھتوں سے بھی لوگ فائرنگ کر رہے ہیں۔اس فائرنگ کے دوران تامر الراشد صاحب کی شہادت ہوئی ہے۔ان کے بارے میں ان کے