خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 193
193 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم میرے دوست ہیں۔اور وہ مسلمان اس وقت اُس کے سامنے بیٹھا شراب پی رہا تھا۔وہ کہتا ہے احمدی تو مسلمان ہی نہیں ہیں۔تم کیا باتیں کر رہے ہو۔کہتا ہے میں نے اسے کہا کہ قرآنِ کریم میں شراب کی حرمت ہے، احمدی شراب نہیں پیتے ، اس کے باوجود وہ مسلمان نہیں۔احمدی نمازیں پڑھتے ہیں۔اس کے باوجو د تمہارے مطابق وہ مسلمان نہیں۔وہ کہتا ہے احمدی ( جن کو میں نے دیکھا ہے) قرآنِ کریم کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن تم کہتے ہو کہ وہ مسلمان نہیں اور تم باوجود اس کے کہ ابھی میرے سامنے شراب پی رہے ہو اور قرآن کریم کی تعلیم کی خلاف ورزی کر رہے ہو ، تم مسلمان ہو۔تو کہتا ہے پہلے سنتا رہا اور بولا کچھ نہیں۔خاموش ہو گیا لیکن شراب کا گلاس بھی ہاتھ میں ہی تھا۔تو پھر میں نے اس کو کہا یہ عیسائی تھا) کہ پریشان نہ ہو یہ تو ایسے ہی بات سے بات نکل آئی تھی میں نے کر دی۔تم یہ شراب پی رہے ہو بیشک پیتے رہو۔اس نے بغیر کسی انتظار کے فور دوبارہ پینی شروع کر دی۔تو یہ مسلمانوں کی حالت ہے۔لیکن احمدی (ان کے نزدیک) مسلمان نہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ۔۔۔نشان ظاہر ہوئے پر انہوں نے قبول نہ کیا۔سو خدا کا غضب اُترا۔اور جب انہوں نے عذاب دیکھا کہنے لگے کہ تیرے وجود کو ہم نجس سمجھتے ہیں“ (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود کو گندہ سمجھتے ہیں) اور یہ طاعون تیرے جھوٹ کی وجہ سے پھیلی ہے“۔(خدا تعالیٰ کے جو عذاب آرہے ہیں نعوذ باللہ۔یہ اس لئے آرہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نعوذ باللہ جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔آج بھی یہی اُن کا حال ہے) اور پھر فرماتے ہیں ” کہا گیا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔۔۔“۔(نعوذ باللہ) فرمایا کہ ”۔۔۔خدا نے کوئی رسول نہیں بھیجا جس کے ساتھ آسمان اور زمین سے عذاب نہ بھیجا گیا ہو اس لئے کہ وہ باز آئیں۔۔۔“۔پس یہ عذاب اور آفتیں جو ہیں یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائیدات میں ہیں۔(الهدى والتبصرة لمن يرى، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 295 تا304) پھر فرماتے ہیں: ”۔۔۔مجھے بتاؤ کہ تمہارے بادشاہوں سے کس بادشاہ نے اس طوفان کے وقت کشتی بنائی بلکہ وہ خود بھی ڈوبنے والوں کے ساتھ ڈوب گئے اور زمانہ کی قیچی نے ان کے ناخن قلم کر ڈالے اور ان کے منہ کو گر دو غبار نے ڈھانک لیا اور زمانہ نے اُن کا پانی خشک کر دیا اور اقبال ان سے الگ ہو گیا“۔(اُن کی شان جو تھی وہ ختم ہو گئی اور انہوں نے حیلے تو کئے پر اُن سے کچھ نفع نہ پایا اور ایسے فتنے آشکار ہوئے کہ وہ اپنی کمیٹیوں اور پارلیمنٹوں کے ذریعہ اور دشمنوں کی سرحدوں پر فوجوں کی چھاؤنی ڈال دینے کے وسیلہ ان کی اصلاح نہ کر سکے۔بسا اوقات انہوں نے ہتھیار سجائے اور بڑے بڑے لشکر بھیجے مگر نتیجہ سوائے شکست اور بڑی ذلت کے کچھ نہ ہوا۔“ (الهدى والتبصرة لمن يرى، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 305) فرماتے ہیں ”۔۔۔اب بتاؤ اے طبیبو! تمہارے نزدیک علاج کا کیا طریق ہے ؟ کیا تمہاری رائے میں یہ امراء اس بلا کو دفع کر سکتے ہیں؟ اور کیا تم امید کرتے ہو کہ یہ بادشاہ ان کانٹوں سے دین کے باغ کو پاک کر سکیں گے ؟ یا تم خیال کرتے ہو کہ یہ بیماریاں اسلامی سلطنتوں اور ان کی معلوم کوشش سے اچھی ہو جائیں گی ؟ نہیں نہیں یہ