خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 182
182 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء کے لوگوں کی خواہش کا اظہار کر دیا کرتا تھا تو از راہ شفقت روٹی منگوا کر اس میں سے ایک لقمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لے لیا کرتے تھے اور بقیہ دے دیا کرتے تھے جو میں خوشی خوشی لا کر اُن دوستوں کو دے دیا کرتا تھا جنہوں نے مانگا ہو تا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ - جلد 3 صفحہ 134 تا 137) حضور کی نماز میں رقت کو انہوں نے کس طرح دیکھا۔لکھتے ہیں کہ ”حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا جنازہ حضور نے خود پڑھایا تھا۔نماز بہت لمبی پڑھائی۔حتی کہ میں کھڑے کھڑے تھک گیا۔نماز سے کچھ قبل ایک ٹکڑا بادل کا آگیا اور گر داڑنے لگی۔(ہوا بھی چلنے لگی، مٹی اڑنے لگی) اور نماز کے سارے وقت میں یعنی ابتدائی تکبیر ر سلام پھیر نے تک خوب موٹے موٹے بوند کے قطرے بارش کے پڑتے رہے۔اور سلام پھیر نے پر سے لے کر سر بارش ختم ہو گئی۔اور تھوڑی دیر بعد آسمان کھل گیا۔“ رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 3 روایت حضرت محمد یکی خان صاحب صفحہ نمبر 137-138 غیر مطبوعہ) اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسلوں میں بھی اور ہمارے اندر بھی احمدیت کی حقیقی روح ہمیشہ قائم فرماتا چلا جائے۔ہمیں بھی اپنی اصلاح کرنے کی طرف توجہ دے۔ہمارے ایمان اور ایقان میں اضافہ ہو۔ہر آنے والا دن ہمارے اندر بھی اور ہماری نسلوں میں بھی احمدیت کی محبت، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق اور قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی طرف ہمیشہ توجہ بڑھاتا چلا جائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 29 اپریل تا 5 مئی 2011ء جلد 18 شمارہ 17 صفحہ 5 تا 9)