خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 181

خطبات مسرور جلد نهم 181 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء ایک مرتبہ والد صاحب مرحوم فرمانے لگے (یہ بعد کی بات ہے جب ان کے والد قادیان آئے اور دیکھا کہ مسجد اقصی نمازیوں سے بھری ہوئی ہے تو کہتے ہیں) کہ پہلی مرتبہ جب میں قادیان آیا تھا تو جمعہ کے دن نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد اقصیٰ تشریف لے چلے۔رستے میں مولوی شادی کشمیری ملا۔اُس کو نماز پڑھنے کے لئے ساتھ لے لیا اور میاں جان محمد صاحب کو ساتھ لے لیا۔آگے چل کے کسی بچے کی میت مل گئی تو آپ نے جان محمد کو نماز جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا اور خود اُن کے پیچھے نماز ادا فرمائی۔جب مسجد اقصیٰ پہنچے اور نماز جمعہ پڑھی تو اس وقت کل چھ نفوس تھے اور لکھتے ہیں کہ اب باوجود مسجد اتنی وسیع ہو جانے کے ارد گرد کی چھتیں بھری ہوتی ہیں۔میرے لئے یہ بھی معجزہ ہے۔پھر بچوں پر شفقت کا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کسی کام کی ضرورت پیش آئی تو ہم چھوٹے بچے بورڈنگ تعلیم الاسلام کے جو اُن دنوں مدرسہ احمدیہ میں ہوا کرتے تھے ، کام کرنے کی خاطر شوق سے آجاتے۔مجھے یاد ہے کہ اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم بچوں کے متعلق دریافت فرماتے کہ یہ کون ہے اور وہ کون ہے ؟ خاکسار کے متعلق ایک مرتبہ دریافت فرمایا تو حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ انوار حسین صاحب آموں والے کے لڑکے ہیں۔فرمانے لگے اسے کہو یہ بیٹھ جائے، کام نہ کرے۔یہ ابھی چھوٹا ہے۔مجھے بٹھا دیا اور دوسرے لڑکے کام کرتے رہے۔ایک مرتبہ سخت سردی پڑی جس سے ڈھاب کا پانی بھی جمنے لگا۔( جو وہاں ڈھاب ہے اُس کا پانی ان ایام میں جم گیا) کہتے ہیں کہ میں گرم علاقے کا رہنے والا ہونے کی وجہ سے بہت سردی محسوس کرتا تھا۔(وہاں کے رہنے والے بھی محسوس کرتے تھے اور جو گرم علاقے سے آئے ہوں تو وہ انہیں بہت زیادہ لگتی ہے)۔اور بورڈنگ میں قریباً سب لڑکوں سے عمر میں بھی بہت چھوٹا تھا تو فجر کی نماز کے لئے جانے میں سردی محسوس کرتا تھا۔ماسٹر عبد الرحمن صاحب بی۔اے سابق مہر سنگھ صاحب نے حضور سے ذکر کیا ہو گا۔تو آکر مجھے کہا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ اس چھوٹے بچے کو سردی میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔نماز فجر کے لئے مسجد نہ لے جایا کرو۔اُس دن سے مجھے فجر کی نماز تمام سردی بورڈنگ میں ادا کرنے کا حکم مل گیا۔یہ کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم حضور کے ہمراہ نہر تک گئے۔رمضان کا مہینہ تھا پیاس لگی ہوئی تھی، حضور کو معلوم ہو گیا کہ بعض چھوٹے بچوں کا روزہ ہے تو حضور نے فرمایا ان کا روزہ تڑوا دو۔بچوں کا روزہ نہیں ہو تا۔اس حکم پر ہم نے نہر سے خوب پانی پی کر پیاس بجھائی اور حضور سے رخصت ہو کر قادیان واپس چلے آئے۔مہمانوں کے جذبات کا احساس۔باہر سے اکثر احباب تشریف لاتے تھے اور خوردہ کے خواہشمند ہوتے تھے ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستر خوان کا جو بچا ہوا کھانا ہوتا تھا اس کے خواہشمند ہوتے تھے) چونکہ بورڈران میں سے میں چھوٹا تھا اور اندر جایا کرتا تھا۔احباب کے ذکر کرنے پر خوردہ لانے پر تیار ہو جایا کرتا تھا۔کھانے کا وقت ہوا تو ام المومنین سے عرض کرنے پر خوردہ مل گیا۔(اکثر یہ ہو تا تھا کہ کھانے کا وقت ہوا تو میں جا کے حضرت اماں جان سے عرض کرتا تھا تو وہ دے دیا کرتی تھیں)۔اور کھانے کا وقت نہیں ہو تا تھا تو تب بھی میں جا