خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 10
خطبات مسرور جلد نهم 10 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء ہیں۔گاؤں والوں نے جواب دیا کہ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔تم ہمیں پیسے دینے آئے ہو تا کہ ہم ایمان سے ہٹ جائیں ؟ اور احمدی ہم سے چندہ مانگتے ہیں تاکہ ہمارے ایمان مضبوط ہوں۔اور پھر وہ ہمیں قرآن کی تعلیم بتاتے ہیں کہ ہر مسلمان کو خدا کی راہ میں کچھ نہ کچھ خرچ کرنا چاہئے اور ہم جانتے ہیں کہ احمدی اس چندے سے اسلام کی خدمت کرتے ہیں۔کھا پی نہیں جاتے یا کاروبار نہیں کرتے۔ہم بے شک غریب ہیں اور آپ کی رقم ہماری ضروریات پوری کر سکتی ہے لیکن جو تھوڑا بہت ہمارے پاس ہے ہم خدا کی راہ میں دینا پسند کریں گے۔اس طرح وہ چندہ کے نظام میں شامل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک چندے کے نظام میں شامل ہیں۔- پس یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں کر رہے ہیں۔تھوڑی قربانی بھی ہے۔بڑی قربانی بھی ہے۔اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ان کے پھلوں کو دوگنا کرتا چلا جا رہا ہے۔مالی قربانیوں کی ایک روح جیسا کہ ہم نے دیکھا جماعت میں نہ صرف قائم ہے بلکہ بڑھتی چلی جارہی ہے۔نئے ہونے والے احمدی بھی اس میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔وقف جدید کا چندہ جو پہلے صرف پاکستان کے احمدیوں کے لئے ہی خیال کیا جاتا تھا۔یعنی اس قربانی میں صرف پاکستانی احمد کی ہی شامل ہوتے تھے۔پھر خلافت رابعہ میں یہ پوری دنیا کے لئے عام کر دیا گیا۔امیر ممالک سے یعنی مغربی ممالک سے اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے وقف جدید کا چندہ لینے کا بڑا مقصد یہ تھا کہ انڈیا اور افریقہ کے بعض ممالک جن کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور جماعتوں کی اکثریت بھی نو مبائعین کی ہے جنہیں ابھی مالی نظام کا صحیح طرح پتہ نہیں اُن پر ہی رقم خرچ کی جائے۔ان کی ضروریات پوری کی جائیں۔مساجد کی تعمیر ہے اور دوسرے اخراجات ہیں۔لیکن آپ نے دیکھا جو میں نے واقعات بیان کئے ہیں کہ اب نو مبائعین خود بھی کس طرح قربانیوں میں بڑھ رہے ہیں۔اور ان کے خود قربانیوں میں بڑھنے سے وہاں کی ضروریات کچھ حد تک پوری ہو رہی ہیں لیکن ساتھ ساتھ نئے مشن بھی کھل رہے ہیں۔اس لئے امیر ممالک سے یا مغربی ممالک سے جو وقف جدید کا چندہ لیا جاتا ہے وہ دوسرے نئے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا جہاں اور مزید ضروریات بڑھ رہی ہیں، مساجد بن رہی ہیں، مشن ہاؤسز بن رہے ہیں، لٹریچر چھپ رہا ہے۔یہ قربانیاں جو مغربی ممالک کے احمدی کر رہے ہیں جہاں ان کو اپنے ملک میں جماعتی پروجیکٹس کو اور کاموں کو آگے بڑھانے میں وسعت دینے میں کام آرہی ہیں وہاں غریب ممالک میں احمدیت کی ترقی میں بھی یہ محمد بن رہی ہیں۔اور یوں امیر ممالک کے قربانی کرنے والے لوگ بھی انفرادی طور پر بھی جو معمولی قربانی کر رہے ہیں بحیثیت جماعت ان کی قربانی تیز بارش کے نتائج پیدا کر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسے قبول فرما تار ہے۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ یکم جنوری سے وقف جدید کا سال شروع ہو تا ہے اور جو مثالیں میں نے دیں وہ زیادہ تر وقف جدید کی ہیں۔واضح ہے کہ آج کے خطبہ میں وقف جدید کانٹے سال کا اعلان کیا جائے گا۔اور گزشتہ