خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 142

142 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہے کہ یہ جو ہدایت ہے اور اس قرآن کریم میں جو خوبصورت تعلیم ہے ، جو سب سابقہ تعلیمیوں سے اعلیٰ ہے، یہ صرف انہی کو نظر آئے گی جن میں کچھ تقویٰ ہو گا۔ہدایت انہی کو دے گی جن کے دل میں کچھ خوف خدا ہو گا۔پس یہ لوگ جتنی چاہے دریدہ دہنی کرتے رہیں ہمیں اس کی فکر نہیں کہ اس ذریعہ سے یہ نعوذ باللہ قرآنِ کریم کی تعلیم کو نقصان پہنچا سکیں گے۔قرآنِ کریم کے اعلیٰ مقام اور اس کی حفاظت کا خدا تعالیٰ خود ذمہ دار ہے بلکہ یہ دوسری آیت جو میں نے پڑھی تھی اس میں تو مومنوں کو خوش خبری ہے کہ قرآنِ کریم تمہارے لئے رحمت کا سامان ہے۔اور ہر لمحہ رحمت کا سامان مہیا کرتا چلا جائے گا۔تمہاری روحانی بیماریوں کا بھی علاج ہے اور تمہاری جسمانی بیماریوں کا بھی علاج ہے ، ہر قسم کی تعلیم اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔اور اگر اس سے پہلے کی آیت سے اس کو ملا لیں تو حقیقی مومنین کو یہ خوشخبری ہے کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل:82 ) کہ جھوٹ ، فریب، مکاری اور باطل نے بھا گنا ہی ہے ، یہ اُس کی تقدیر ہے۔پس یہاں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ سروں کی قیمت مقرر کرنے سے یا توڑ پھوڑ کرنے سے یا غلط قسم کے احتجاج کرنے سے قرآنِ کریم کی عزت قائم نہیں ہو گی بلکہ حقیقی مومن اپنے پر قرآنی تعلیم لاگو کر کے ہی قرآن کریم کی برتری ثابت کر سکتا ہے اور کرنے والا ہو گا۔وہ اس کی خوبصورت تعلیم کو دنیا کو دکھا کر حق اور باطل میں فرق ظاہر کریں گے۔اور جب یہ تعلیم دنیا پر ظاہر ہو گی تو پھر اللہ تعالیٰ کی غالب تقدیر مومنوں کے لئے رحمت اور اُن زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کا نظارہ دکھائے گی۔قرآنِ کریم کی فتح اور مومنین کی فتح ہو گی۔دنیا کو اس کے بغیر اب کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم سے اپنی روحانی اور ماڈی ترقی کے سامان پیدا کرے۔اپنے اوپر یہ تعلیم لاگو کرے۔پس ہمیں خاص طور پر احمد یوں کو ان لوگوں کے غلیظ اور اوچھے ہتھکنڈوں سے کوئی فکر نہیں ہوتی۔ہم تو اس مسیح موعود کے ماننے والے ہیں جس کو اس زمانہ میں قرآنِ کریم کی تعلیم کو دنیا میں دوبارہ پھیلانے کے لئے بھیجا گیا ہے جس کے بارے میں قرآنِ کریم سورۃ جمعہ میں فرماتا ہے که: يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ - هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلِلٍ مُّبِيْنٍ وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعة: (2 تا 4) کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتا ہے جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے۔وہ بادشاہ ہے۔قدوس ہے۔کامل غلبہ والا ہے۔( اور ) صاحب حکمت ہے۔وہی ہے جس نے اُقی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔وہ اُن پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے۔انہیں پاک کرتا ہے۔انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی ( اسے مبعوث کیا ہے ) جو ابھی اُن سے نہیں ملے۔وہ کامل غلبہ والا ( اور ) صاحب حکمت ہے۔پس ایک پہلا دور تھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے مبعوث فرمایا اور آپ نے اس تعلیم