خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 141

خطبات مسرور جلد نهم 141 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء پھر آگے چل کے اسی کتاب میں یہ لکھتا ہے۔اس کا 344,343 صفحہ ہے۔کہتا ہے کہ قرآنِ کریم کو پڑھنے والا ایک منصف مزاج بغیر کسی شک کے اس بات پر حیران ہوتا ہے کہ کس طرح بات کے مقصد کو احسن رنگ میں ادا کیا گیا ہے۔قرآنِ کریم اعلیٰ اخلاق اور تعلیم و احکامات سے بھرا ہوا ہے۔اس کی ترکیب و ترتیب ایسی واضح اور ہر لفظ اپنے اندر ایک مطلب سمیٹے ہوئے ہے۔ہر صفحہ اپنے اندر ایسے مضامین لئے ہوئے ہے جس کی تعریف کئے بغیر انسان آگے نہیں جاسکتا۔(History of the Intellectual Development of Europe by John William Draper V۔1 Page: 332,343,344) تو یہ اس مستشرق کا خیال ہے۔اور بہت سارے مستشرقین ایسے ہیں جن کو باوجو د مذہبی اختلاف کے حق سے کام لینا پڑا ہے۔وہ مجبور ہوئے کہ اُن کے دل کی آواز نے اُن کو کہا کہ انصاف سے کام لو اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآنِ کریم کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔لیکن جو بغض اور کینے میں بڑھے ہوئے ہیں اُنہیں کچھ نظر نہیں آتا۔میں نے جو آیات تلاوت کی ہیں ان میں بھی خدا تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کا نقشہ کھینچا ہے کہ قرآن تو سیچ ہے اس میں کوئی شک نہیں۔پہلی آیت جو میں نے پڑھی تھی اس کا ترجمہ یہ ہے۔اور یقینا ہم نے اس قرآن میں (آیات کو) بار بار بیان کیا ہے تا کہ وہ نصیحت پکڑیں۔بایں ہمہ یہ انہیں نفرت سے دور بھاگنے کے سوا کسی اور چیز میں نہیں بڑھاتا۔یہ سورۃ بنی اسرائیل کی بیالیسویں نمبر کی آیت ہے۔پس قرآن کریم نے تو ان لوگوں کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔اِن لوگوں کا بھی وہی حال ہے جو کفار کا تھا۔قرآنِ کریم کی ہر آیت جہاں اپنی پرانی تاریخ بتاتی ہے وہاں پیشگوئی بھی کرتی ہے۔تو ایسے لوگ تو اسلام کی دشمنی میں پیدا ہوتے رہے اور پیدا ہوتے چلے جائیں گے جو باوجود قرآن کریم کی واضح تعلیم کے ہر پہلو کی وضاحت کے اور مختلف زاویوں سے وضاحت کے پھر بھی اس پر اعتراض ہی نکالیں گے۔اور نہ صرف اعتراض نکالتے ہیں بلکہ فرمایا کہ قرآن کریم کی اس خوبصورت تعلیم کو جو ہم مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں۔بجائے اس کے کہ یہ وضاحت جو ہے، مختلف پہلو سے بیان کرنا جو ہے یہ ان لوگوں کی آنکھیں کھولے وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا۔یہ اُن کو اس خوبصورت تعلیم سے نفرت کرتے ہوئے دُور بھاگنے میں ہی بڑھاتا ہے۔یعنی وہ لوگ نفرت کرتے ہوئے اس سے دور ہٹتے چلے جاتے ہیں۔پھر اسی سورۃ میں جو بنی اسرائیل کی ہے، آگے جا کے پھر ایسے لوگوں کا نقشہ کھینچا ہے۔جو میں نے تلاوت کی ہے اُس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم قرآنِ کریم میں سے وہ نازل کرتے ہیں جو شفا ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے اور ظالموں کو گھاٹے کے سوا کسی اور چیز میں نہیں بڑھاتا۔پس یہاں مزید وضاحت فرمائی کہ جیسا کسی کی فطرت ہو ویسا ہی اُسے نظر آتا ہے۔کہتے ہیں یر قان زدہ مریض جو ہے اُس کی آنکھیں زرد ہو جاتی ہیں تو اس کو ہر چیز زرد نظر آتی ہے۔جو بد فطرت ہے اس کو اپنی فطرت کے مطابق ہی نظر آتا ہے۔قرآنِ کریم نے جب هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة: 3 ) کا اعلان فرمایا ہے تو ابتدا میں ہی فرما دیا