خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 129
خطبات مسرور جلد نهم 129 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء ”جب تیز آندھی آتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے کہ اے اللہ ! میں تجھ سے اس آندھی میں مضمر ہر ظاہری اور باطنی خیر کا طالب ہوں اور اس کے ہر ظاہری و باطنی شر سے پناہ مانگتا ہوں۔“ (سنن ترمذی کتاب الدعوات باب ما يقول اذا هاجت الريح حديث (3449) نیز آپ یعنی حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آسمان پر بادل گھر آتے تو آپ کا رنگ بدل جاتا اور آپ کبھی گھر میں داخل ہوتے اور کبھی باہر نکلتے۔کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے اور جب بادل برس جاتا تو آپ کی گھبراہٹ ختم ہو جاتی۔کہتی ہیں کہ یہ بات میں آپ کے چہرہ مبارک سے پہچان لیتی تھی۔آپؐ فرماتی ہیں کہ ایک بار میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس گھبراہٹ کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! یہ اس لئے ہے کہ کہیں یہ بادل قوم عاد پر عذاب لانے والے بادل حیسانہ ہو۔قوم عاد کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے جب بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھ تو کہا کہ یہ تو ہم پر مینہ برسانے والا ہے لیکن وہ عذاب لانے والا بن گیا۔(صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب ما جاء في قوله : و هو الذي يرسل الرياح بشرا حدیث 3206) تو یہ ہے کامل بندگی اور خشیت کا اظہار، اُس خوف کا اظہار کہ وہ عظیم انسان جس سے اللہ تعالیٰ کے بے شمار وعدے ہیں۔ہر قسم کے نقصان سے بچانے کے بھی وعدے ہیں، ترقی اور غلبے کے بھی وعدے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی پتہ ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی آفت اور مصیبت مسلمانوں پر نہیں آسکتی، بلکہ دوسرے بھی آپ کی برکتوں سے بچے ہوئے تھے۔کسی دجال کا دجل کامیاب نہیں ہو سکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی علم تھا کہ جب آندھی اور طوفان آئے تو آپ کے حق میں آتے ہیں۔بدر کی جنگ ہو یا جنگ خندق۔آندھیاں اور طوفان دشمن کی بربادی اور ہزیمت کا باعث بنی تھیں لیکن پھر بھی آپ کو فکر ہے۔اصل میں تو یہ خیال ہو گا کہ آسمانی آفت سے یہ لوگ صفحہ ہستی سے نہ مٹادیئے جائیں۔پس آپ کی بے چینی اس رحم کے جذبہ کے تحت تھی جو اس رحمۃ للعالمین کے دل میں مخلوق کے لئے موجزن تھا اور آپ اس قدر بے چینی میں مبتلا ہو جاتے کہ جیسا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپ کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو جاتا، بدل جاتا۔اللہ تعالیٰ کے بے نیاز ہونے کی وجہ سے آپ کو فکر ہوتی تھی کہ کہیں کچھ لوگوں کا تکبر اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کی صحیح پہچان نہ کرنا پوری قوم کی تباہی کا باعث نہ بن جائے۔سورۃ ھود کے بارہ میں آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ اس نے مجھے بوڑھا کر دیا۔(سنن ترمذى كتاب تفسير القرآن باب و من سورة الواقعة حديث 3297) قوموں کی تباہی اور بربادی کا اس سورۃ میں ذکر ملتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کو حقیقی طور پر سمجھتے تھے اور آپ سے زیادہ کوئی اور سمجھ نہیں سکتا، آپ کو یہ فکر رہتی تھی کہ امت کا ہمیشہ صحیح رستے پر چلتے رہنا میری ذمہ داری ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوا (هود: 113) پس جیسے تجھے حکم دیا جاتا ہے اس پر مضبوطی سے قائم ہو جا اور وہ جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی ہے۔اور حد سے نہ بڑھنا۔یعنی مومنوں کو حکم ہے کہ حد سے نہ بڑھنا۔حد سے بڑھنا خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینا ہے۔