خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد نهم 128 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء بمطابق 18 امان 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جب بھی دنیا میں زمینی یا آسمانی آفات آتی ہیں تو خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والا ہر شخص اس خوف سے پریشان ہو جاتا ہے کہ آج جو آفت ایک علاقہ میں آئی ہے کل ہمیں بھی کسی مشکل میں مبتلا نہ کر دے۔ہمارا کوئی عمل خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والانہ بن جائے۔اور یہ حالت ایک حقیقی مومن کی ہی ہو سکتی ہے۔اُس کی ہو سکتی ہے جس کو یہ فہم اور ادراک حاصل ہو کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔اور جب یہ سوچ ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اُس کی رضا کی راہوں پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔اور ایسے ہی مومنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ هُمْ مِنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ (المؤمنون: 58) که یقینا وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے خوف کہ سے کانپتے ہیں۔اور اس خوف کی وجہ سے پایتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ (المؤمنون: 59)۔اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔آگے پھر بیان ہوتا ہے کہ اُس کا شریک نہیں ٹھہراتے۔ہر حالت میں اُن کا رُخ خدا تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ آفات میں گھر گئے تو خد اتعالیٰ یاد آگیا۔جب آفات سے باہر آئے تو خدا تعالیٰ کو بھول گئے۔نہیں، بلکہ ہر حالت میں ، چاہے تنگی ہو یا آسائش ہو ، مشکل میں ہوں یا سکون میں ہوں، اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہیں اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کو یاد رکھنا اُس وقت بھی ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ نے انہیں ہر قسم کی بلاؤں اور مشکلات سے محفوظ رکھا ہوتا ہے اور کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی اور جب کسی مشکل میں گرفتار ہوتے ہیں یا کسی بھی قسم کے موسمی تغیر یا آفت کو دیکھتے ہیں تو اُس وقت وہ مزید اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں اور تا قیامت ہر آنے والے مومن کے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسے حالات میں کیا عمل ہو تا تھا اور کیا حالت ہوتی تھی۔اس بارہ میں حضرت عائشہ سے ایک روایت ہے۔آپ فرماتی ہیں کہ :