خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 7

7 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم افریقہ میں وہاں کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کا قربانی کرنے کا کیا جذبہ ہے ، یہ دیکھیں۔گیمبیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ایک بھائی فوڈے با کولی(Fodayba Colley) ایک غریب آدمی ہیں، جب انہیں وقف جدید کے چندے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے بتایا کہ تنگدستی کی وجہ سے وہ تو فاقوں سے ہیں۔تین دن بعد یہ دوست مشن ہاؤس آئے اور پچاس ڈلاسی دیئے اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ برکت کی خاطر میرا نام بھی چندہ ادا کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہو جائے۔یعنی فاقے کی نوبت بھی ہے لیکن اس کے باوجو د چندہ دینے کی خواہش ہے کہ کہیں میں محروم نہ رہ جاؤں۔یہ عجیب جذبہ ہے۔پھر ایک اور صاحب تھے ،انہوں نے بھی اسی طرح کہا کہ میں بہت غریب ہوں، ضرورت مند ہوں، میرے پاس کچھ نہیں لیکن سو (100) ڈلاسی دیئے۔جماعت بین کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک نو مبائع جماعت اوراکامے(Awrakame) کے جنرل سیکرٹری لطیفو لا میدی صاحب کچھ عرصے سے بیروزگاری کے حوالے سے بہت پریشان تھے۔محنت مزدوری اور کاروبار ڈھونڈنے کے سلسلے میں نائیجیریا بھی گئے لیکن کچھ نہ بنا اور پریشان ہی واپس لوٹے۔اب وقف جدید کے آخری دوماہ نومبر، دسمبر رہ گئے تھے اور یہ اس چندے میں بقایا دار تھے۔انہیں جب وقف جدید کا چندہ دینے کا کہا گیا اور بتایا گیا کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مشکل حالات میں خرچ کرنے والوں کے لئے بھی خاص انعامات ہوتے ہیں تو یہ اگلے دن چندے کی رقم لے کر آگئے اور کہنے لگے کہ جب سارا گھر قرض لے کر کھا رہا ہے تو کیوں نہ خدا کی راہ میں بھی خرچ کے لئے قرض اٹھالیا جائے۔شاید اللہ ہمارے دن موڑ دے۔تو اللہ تعالیٰ کا فضل اس طرح نازل ہوا کہ چندہ دینے کے تیسرے دن انہیں ایک خاصے امیر گھرانے میں ملازمت مل گئی اور اتنی اچھی تنخواہ ملی کہ دوماہ میں ان کے تمام قرضے بھی اتر گئے۔انہوں نے ایک موٹر سائیکل بھی خرید لی اور اب ہر جگہ کہتے ہیں کہ یہ میرے چندے کی برکت ہے۔بین میں ہی جماعت اور ا کامے (Awrakame) جو (نام) پہلے بتایا تھا۔وہاں معلم صاحب چندہ لینے کے لئے گئے۔اس علاقہ کے بہت سے لوگوں نے جو جگہ ہے اور اکا مے“ (Awrakame) اس کے صدر جماعت کے پیسے دینے تھے۔اور یہ بہت بڑی رقم بنتی تھی۔مگر کافی عرصے سے ادھار لینے والے رقمیں نہیں دے رہے تھے جس کی وجہ سے صدر صاحب اور ان کے گھر کے بعض افراد نے اپنا وقف جدید کا مکمل چندہ ادا نہیں کیا۔معلم صاحب نے صدر اور ان کے گھر والوں کو سمجھایا کہ دیکھو وعدہ ایک قرض ہے۔جب تم لوگ خدا کا قرض ادا کرنے کے لئے پس و پیش کرتے ہو تو دوسرے لوگ تمہارا قرض ادا کرنے کے لئے کیوں نہ پس و پیش کریں۔یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے فوراً اپنا وقف جدید میں سارے گھر کا چندہ بے باق کیا اور کہتے ہیں کہ لو معلم صاحب، میں نے تو