خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 6

خطبات مسرور جلد نهم 6 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء مثلاً انڈیا سے وہاں کے ناظم وقف جدید لکھتے ہیں کہ گزشتہ سال 2010ء میں گجرات کے دورے پر گیا تو وہاں گاندھی دھام ایک جگہ ہے اس کے ایک دوست کے پاس جب وقف جدید کا چندہ لینے گیا تو ان کا چندہ وقف جدید اس وقت تیرہ ہزار روپے تھا۔کہتے ہیں کہ میں ان کے مالی حالات جانتا تھا۔میں نے انہیں تحریک کی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت نوازا ہے۔آپ اپنا وعدہ پچاس ہزار روپے کر دیں۔موصوف نے اسی وقت پچپن ہزار روپے کا چیک کاٹ کر دے دیا اور کہا کہ دعا کریں میرا ایک کاروبار ہے اس میں میرے اکیس لاکھ روپے پھنسے ہوئے ہیں جو ملنے کی امید نہیں بن رہی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ دو چار دن کے بعد ہی اُن کی جوڑ کی ہوئی رقم تھی وہ اکیس لاکھ روپیہ ان لوگوں نے خود آکر ان کو دے دیا۔اسی طرح ہمارے انسپکٹر وقف جدید ہیں، وہ کہتے ہیں کو ئمبٹور جماعت میں تامل ناڈو میں ایک مخلص دوست جنہوں نے دس سال پہلے بیعت کی تھی۔جب انہیں وقف جدید کی اہمیت کے بارے میں بتایا اور ان کو کہا کہ آپ تیس ہزار روپے اپنا وعدہ لکھوائیں کیونکہ آپ کی آمد کافی ہے۔انہوں نے کہا مولوی صاحب! میں نے آپ کی باتیں سن لی ہیں۔میں تیس ہزار نہیں بلکہ پچاس ہزار روپے کا وعدہ لکھواتا ہوں۔اس پر کہتے ہیں میں نے اُن سے کہا کہ یہ شاید آپ کی طاقت سے بڑھ کر ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر جو دینا ہے تو پھر آپ کو اس سے کیا؟ مجھے پتہ ہے کتنی میری طاقت ہے اور اللہ تعالیٰ کس طرح نوازتا ہے۔رمضان کے مہینے میں پھر انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور کہتے ہیں میری آمد اب اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس سال کے لئے انہوں نے تحریک جدید اور وقف جدید دونوں کا اپنا وعدہ ایک ایک لاکھ روپیہ لکھوایا ہے۔پھر صوبہ بنگال کے انسپکٹر وقف جدید شیخ محمد داؤد ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ایک نواحمدی ہیں جو مدرسہ میں پڑھاتے تھے۔اس کے بعد پھر انہوں نے معلم کی ٹریننگ لی اور پانچ سو روپیہ چندہ دیتے تھے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل فرمایا۔اب ان کا پانچ ہزار روپیہ چندہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جب میں غیر احمدی تھا تو لوگوں کے دروازے پر جا کر کھانا کھاتا تھا اور اب بیعت کرنے کے بعد چندے کی برکت سے لوگ میرے دستر خوان پر کھاتے ہیں۔پہلے جائیداد نہیں تھی اور اب جائیداد بھی بن گئی ہے۔پھر تامل ناڈو کی جماعت کو ئمبٹور کی جو اکثریت ہے وہ نو احمدیوں کی ہے جس میں زیادہ تر احباب جماعت نے دس سے پندرہ سال قبل بیعت کی تھی۔سو اس میں سے اللہ کے فضل سے پچاس فیصد جو زیادہ کمانے والے ہیں وہ اب تک موصی بن چکے ہیں۔چند سال پہلے ایک شخص نے بیعت کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق دی کہ چندے میں غیر معمولی اضافہ کیا۔اور وہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میرے کاروبار میں اضافہ کر دیا ہے اور میرے غیر از جماعت رشتے دار حیران ہیں کہ تمہارے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آرہا ہے۔میں ان کو یہی کہتا ہوں جو بھی ہے اللہ تعالیٰ کا فضل اور احمدیت کی برکت ہے۔یہ تو میں نے انڈیا کے حالات بتائے ہیں۔