خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 79
خطبات مسرور جلد ہشتم 79 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 جواب کیا دوں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ پروفیسر صاحب کو جا کر کہیں کہ اگر آپ کا یہ دعویٰ صحیح ہے تو حضرت مسیح اور آپ کے حواری بھی اس مسئلے کو نہیں سمجھے ہوں گے کیونکہ وہ بھی ایشیائی تھے۔یہ جواب سن کر پروفیسر صاحب ایسے خاموش ہوئے کہ گویا انہوں نے کبھی یہ دعویٰ کیا ہی نہیں۔پھر آگے لکھا ہے کہ سنا گیا ہے کہ یورپ میں بھی ایک کانفرنس میں انہوں نے یہ اعتراض پیش کیا مگر وہاں سے بھی انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔حیات نور از عبد القادر (سابق سوداگر مل) صفحه 107-106) پھر ایک واقعہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک میں جبکہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں طاعون کے حملے ہو رہے تھے میں تبلیغ کی غرض سے موضع گوٹریالہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات گیا اور وہاں ایک مخلص احمدی چوہدری سلطان عالم صاحب کے پاس چند دن رہا۔دوران قیام میں ہر رات میں ان کے مکان کی چھت پر چڑھ کر تقریریں کرتارہا اور لوگوں کو احمدیت کے متعلق سمجھاتا رہا۔چونکہ ان تقریروں میں اُن لوگوں کو طاعون وغیرہ کے عذابوں سے بھی ڈرا تا رہا۔اس لئے ایک دن صبح کے وقت اس گاؤں کے کچھ افراد میرے پاس آئے اور کہنے لگے آپ نے اپنی تقریروں میں مرزا صاحب کے نہ ماننے والوں کو طاعون وغیرہ سے بہت ڈرایا ہے۔مگر آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ موضع گوٹریالہ بہت بلندی پر واقع ہے اور پھر اس کی فضا اور آب و ہوا اتنی عمدہ ہے کہ یہاں وہائی جراثیم پہنچ ہی نہیں سکتے۔تو مولوی صاحب کہتے ہیں میں نے ان کو کہا کہ یہ تو بالکل درست ہے۔مگر آپ لوگ یہ بتائیں کہ مجھ سے پہلے کبھی کوئی احمدی مبلغ اس گاؤں میں آیا ہے جس نے آپ کو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تبلیغ کی ہو ؟۔گاؤں والوں نے کہا نہیں پہلے تو کوئی نہیں آیا۔تو مولوی صاحب کہتے ہیں میں نے کہا یہی وجہ ہے کہ آپ کا گاؤں ابھی تک محفوظ ہے۔اب میری تبلیغ اور آپ لوگوں کے انکار کے بعد بھی اگر یہ گاؤں خدا تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہا تو پھر میں سمجھوں گا کہ واقعی اس گاؤں کی عمدہ فضا خدا تعالیٰ کے ارشاد وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل : 16) کی وعید کو روک سکتی ہے۔( یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ہر گز عذاب نہیں بھیجتے جب تک کسی بستی میں رسول نہ بھیج دیں)۔تو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ میں تو ان لوگوں کو یہ بات کہہ کر چلا آیا لیکن چند دن بعد ہی اس گاؤں میں چوہے مرنے شروع ہو گئے۔پھر طاعون نے ایسا شدید حملہ کیا کہ اس گاؤں کے اکثر محلے موت نے خالی کر دیئے اور کئی لوگ بھاگ کر دوسرے دیہات میں چلے گئے۔(ماخوذ از حیات قدسی از حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی صفحه 136) تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بھی مختلف طریقے ہیں۔طاعون تو ایک ایسا عذاب تھا جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے خبر دی تھی۔پھر آپ نے اپنا ایک نشان زلزلوں کا بھی بتایا۔آج بھی دنیا میں ،شکلوں میں عذاب آرہے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی نہ پہچان کرنا چاہتے ہیں، نہ زمانہ کے امام کی پہچان کرنا چاہتے