خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 71
71 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم دوران تمہارے در میان بغض اور عناد پیدا کر دے اور تمہیں ذکر الہی اور نماز سے باز رکھے تو کیا تم باز آجانے والے ہو ؟ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ( برائی سے بچتے رہو اور اگر تم پیٹھ پھیر جاؤ تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف پیغام پہنچانا ہے۔آجکل ان ملکوں میں شراب نجوا تو عام ہے بلکہ اب تو ہر جگہ ہے۔جہاں پابندیاں ہیں وہاں بھی بعض ایسی جگہیں ہیں جہاں لوگ جا کر پیتے ہیں۔ان ملکوں میں تو ہر جگہ نہ صرف یہ کہ عام ہے بلکہ کسی نہ کسی طریق سے اس کی تحریص بھی کروائی جاتی ہے۔ہر سروس سٹیشن پر یا ہر بڑے سٹور پر جوئے کی مشینیں نظر آتی ہیں۔کسی نہ کسی رنگ میں اس میں جوا کھیلا جاتا ہے اور جہاں تک شرک کا سوال ہے اگر ظاہری بت نہ بھی ہوں تو نفس کے بہانوں کے بہت سے بت انسان نے تراش لئے ہیں۔باوجو د ایمان لانے کے بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کی انسان پر واہ نہیں کرتا۔اور پھر یہ جو بت ہیں، بعض ایسے جو مخفی شرک ہیں یہ عبادات میں روک بنتے ہیں ، نمازوں میں روک بنتے ہیں۔نمازیں جو فحشاء کو دور کرنے والی ہیں ان کی ادائیگی میں روک بن جاتے ہیں۔پھر تیروں سے قسمت نکالنا ہے اور آج کل اس کی ایک صورت لاٹری کا نظام بھی ہے اس میں بھی لوگ بے پرواہ ہیں۔زیادہ تر پر واہ نہیں کرتے اور لاٹری کے ٹکٹ خرید لیتے ہیں۔یہ چیز بھی حرام ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب شیطانی کام ہیں۔پس ایک حقیقی مومن کا کام ہے کہ عبادات میں استقامت دکھائے۔نیک اعمال بجالانے کی کوشش میں استقامت دکھائے۔برائیوں اور بے حیائیوں سے بچنے کے لئے استقامت دکھائے اور یہ استقامت اس وقت آئے گی جب اللہ تعالیٰ کا ذکر اور نمازوں کی طرف توجہ ہو گی۔پھر نیکی اور تقویٰ میں بڑھنے اور گناہوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ اس طرح حکم فرمایا ہے کہ فرمایا تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدہ : 3) کہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں) میں تعاون نہ کرو۔اور اللہ سے ڈرو۔یقیناً اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے کہ اس میں پہلے یہ بیان کر کے کہ دشمن کی زیادتی اور دشمنی بھی تمہیں کسی قسم کی زیادتی پر آمادہ نہ کرے، پھر فرمایا کہ نیکی اور تقویٰ میں ہمیشہ تمہارا تعاون رہے۔اصل تقویٰ تو ایک مومن کے اندر ہے اور ہونا چاہئے۔پس نیکی کے کاموں میں تقویٰ سے کام لیتے ہوئے تعاون ہمیشہ جاری رہنا چاہئے اور تقویٰ ہی ہے جو پھر مزید نیکیوں کے بیج بو تا چلا جاتا ہے۔اگر کوئی چیز ایک مومن کو بار بار دوہرانے کی ضرورت ہے اور دوہرانی چاہئے تو وہ نیکیوں کی طرف توجہ اور نیکیوں کا فروغ ہے۔اور اگر کسی چیز سے بچنا ہے تو وہ گناہ اور زیادتی ہے۔ایک مومن کی شان نہیں کہ اثہ اس سے سرزد ہو۔ایسا گناہ سر زد ہو جو جان بوجھ کر کیا جاۓ۔جو