خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 70 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 70

خطبات مسرور جلد ہشتم 70 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010 فوائد بھی رکھے ہیں لیکن فرمایا کہ اس کا گناہ جو ہے اس کے فائدہ سے بڑھ کر ہے۔اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے نشانات کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ تم سوچ اور فکر سے کام لو۔شراب اور جوئے کے تباہ کن نقصانات پس واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جو بنائی ہے بیشک اس کے فوائد بھی ہوتے ہیں اور نقصان بھی۔اس لئے یہ اصولی بات یاد رکھو کہ جس چیز کے نقصان اس کے فائدے سے زیادہ ہوں اس کے استعمال سے بچو اور یہ دونوں چیزیں جو ا اور شراب تو ایسے ہیں جواثم کبیر ہیں۔ان میں بڑے بڑے گناہ ہیں۔باوجو د فائدہ کے یہ گناہ میں بڑھانے والے ہیں اور جیسا کہ میں نے اثم کے لغوی معنوں میں بتایا تھا اور قرآن کریم میں بھی ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ( الفرقان: 69) یعنی اپنے گناہ کی سزا بھگتے گا۔پس باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جوئے اور شراب میں فائدہ بھی ہے، یہ کھول کر بیان کر دیا کہ تم غور کرو لیکن غور اس بات پر نہیں کہ میں تھوڑا فائدہ اٹھاؤں یا زیادہ۔یہ دیکھوں کہ اس میں فائدہ ہے کہ نہیں ہے۔غور اس بات پر کرنا ہے کہ اگر میں نے اس کو استعمال کیا یا یہ کام کیا تو گناہگار بنوں گا اور سزا کا سزاوار ٹھہروں گا۔کیونکہ اِثْمُهُمَا أَكْبَر کہہ کر بتادیا کہ تمہیں اس کے جرم کی سزا ملے گی۔اور یہ ایسا گناہ ہے جس میں ایک دفعہ انسان پڑتا ہے تو پھر پڑتا چلا جاتا ہے۔جان بوجھ کر اس گڑھے میں گرتا چلا جاتا ہے۔دونوں کاموں کے کرنے کا ایک نشہ ، ایک چاٹ لگ جاتی ہے اور یوں بغاوت کا رویہ اختیار کرتے ہوئے سزا کا بھی مستحق بن جاتا ہے۔تو دونوں چیزیں ہی ایسی ہیں جس میں انسان اپنے پاکیزہ مال کو بھی ضائع کر رہا ہوتا ہے اور نہ صرف یہ کہ پاکیزہ مال ضائع کر رہا ہو تا ہے بلکہ حرام مال جو ہے اس کو اپنے طیب مال میں شامل کر کے تمام مال کو ہی حرام بنالیتا ہے۔جوا کھیلنے والا مال ضائع کر دیتا ہے۔شراب پینے والا جو ہے وہ شراب میں مال ضائع کر دیتا ہے۔اپنی صحت برباد کر لیتا ہے۔قرآن کریم میں دوسری جگہ واضح طور پر مناہی کر کے بتایا کہ شراب، جوئے اور قرعہ اندازی کے تیر جو ہیں یہ سب شیطانی کام ہیں جو نیکیوں سے روکتے ہیں، اعلیٰ اخلاق سے روکتے ہیں۔عبادات سے روکتے ہیں۔سورۃ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطنِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمُ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَ عَنِ الصَّلوةِ ، فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ - وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ احذروا ۚ فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّهَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلغُ الْمُبِينُ (المائده : 93-91) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! یقیناً مدہوش کرنے والی چیز اور جوا اور بت ( پرستی) اور تیروں سے قسمت آزمائی یہ سب ناپاک شیطانی عمل ہیں۔پس ان سے پوری طرح بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔یقیناً شیطان چاہتا ہے کہ نشے اور جوئے کے