خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 51

خطبات مسرور جلد ہشتم 51 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2010 اللہ تعالیٰ ہمیں اس دعا کو سمجھ کر کرنے اور اس کا فیض پانے والا بنائے۔ہم اللہ تعالیٰ کے اس نور سے فیض پانے والے ہوں جو آنحضرت صلی علی نام لے کر آئے۔آپ سراپا نور تھے لیکن پھر بھی کس درد کے ساتھ یہ دعائیں کرتے تھے۔یہ دعائیں اصل میں آپ ہمیں سکھا رہے ہیں کہ میری اُمت کے لوگ ، مومنین یہ دعائیں کریں اور سراپا نور بننے کی کوشش کریں۔میرے اسوہ پر چلنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔مخلوق کے حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔آپ اپنے متبعین کو بھی اس نور سے منور کرنے کے لئے بے چین تھے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اپنے ہر عمل کو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر بجالانے والے ہوں اور اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی ایام کے پیار کو سب پر مقدم رکھتے ہوئے آپ کی اپنی امت کے لئے نیک خواہشات کو پورا کرنے والے ہوں۔آپ نے امت سے جو امیدیں وابستہ رکھیں ان کو پورا کرنے والے ہوں اور ہمیشہ اس نُور علی نُور سے فیض پاتے ہوئے امت ہونے کا حق ادا کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت صلی علیم کی طرف جاتے ہیں اور پھر وہاں جا کر آنحضرت صلی اللی علم کے سینہ میں جذب ہو جاتے ہیں اور وہاں سے نکل کر ان کی لا انتہاء نالیاں ہوتی ہیں اور بقدر حصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں“۔(الحکم مورخہ 28 فروری 1903ء جلد :7 شمارہ: 8 صفحہ 7 کالم نمبر 1،2) اور یہ حقدار کون ہیں ؟ وہ جو حقوق اللہ بجالانے والے ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہمارے سینے بھی اس نور کو جذب کرنے والے ہوں جو آنحضرت صلی اللہ وسلم کے سینے سے نکل رہا ہے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 7 مورخہ 12 تا 18 فروری 2010 صفحہ 5 تا8)