خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 591 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 591

خطبات مسرور جلد ہشتم 591 47 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010ء بمطابق 19 نبوت 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَنُبَوَتَنَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خَلِدِينَ فِيهَا نِعْمَ أَجْرُ الْعِمِلِينَ الَّذِيْنَ صَبَرُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (العنكبوت:60-59) ریقین پر آنحضرت ملی الم کی قوت قدسیہ کی بدولت نیک انقلاب آنحضرت صلی الم نے مومنین کی وہ قوم پیدا کی جو ایمان میں بڑھے ہوئے تھے۔وہ اس ایمان اور یقی قائم تھے کہ آنحضرت علی علیکم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ان پر دین اپنے کمال پر پہنچا اور یہی دین ہے جس کی تو پر عمل کر کے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کی جاسکتی ہے۔پس جب صحابہ اپنے ایمان کی معراج کو چھونے لگے تو ان کا ہر حرکت و سکون اور ہر عمل خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو گیا۔اور جو عمل اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے یا چاہنے کے لئے ہو ، وہی عمل صالح کہلاتا ہے۔پس ان آیات میں آنحضرت صلی یہ کم کی قوت قدسی سے اپنے اندر ایک عظیم انقلاب لانے والے لوگوں کا ہی ذکر ہے۔جو اپنی تمام پرانی بد عادات کو چھوڑ کر اپنے ایمان میں اس قدر مضبوط ہوئے کہ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ایمان میں مضبوطی اور اعمالِ صالحہ بجالانے کے لئے وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار رہیں گے۔اگر خاموشی سے سختیاں برداشت کرنی پڑیں تو وہ کریں گے کیونکہ ایک وقت میں جب سختی کا مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں تھی تو اس وقت ایمان میں مضبوطی کا تقاضا یہی تھا کہ خاموشی سے سختیاں جھیلو۔اس وقت عمل صالح یہی تھا کہ سختی کا جواب سختی سے نہیں دینا۔جب یہ حکم ہوا کہ وطن چھوڑ کر ہجرت کر جاؤ تو ایمان کی مضبوطی اور عمل صالح یہی تھا کہ بغیر کسی تردد کے وطن چھوڑ دیں۔جب دشمن کو سزا دینے کے لئے جنگ کا حکم تھا تو ایمان کا تقاضا اور عمل صالح یہی تھا کہ ہر قسم کے نتائج سے بے پرواہ ہو کر دشمن کو سزا دو۔یہ نہ دیکھو کہ میرے پاس ہتھیار ہیں یا نہیں۔دشمن کی طاقت اور میری طاقت میں کوئی نسبت ہے یا نہیں۔غرضیکہ ایمان لانے کے بعد کوئی بھی عمل اور کوئی بھی نیکی جب خدا تعالیٰ کی رضا کی تابع ہو جائے۔اپنی جان کو انسان خدا تعالیٰ کی امانت سمجھنے لگے جس کا حق صحابہ رسول صلی الی یکم نے ادا کیا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کو میں ضرور جنت میں داخل