خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 581 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 581

خطبات مسرور جلد ہشتم 581 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 نومبر 2010 خدا تعالیٰ کی پکڑ میں آئے گا؟ اللہ تعالیٰ مومنوں کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ یاد رکھو خدا تعالیٰ تم صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کو قائم رکھنے کے لئے صبر اور دعائیں کرو۔اللہ تعالیٰ کا ساتھ تو ایسا ساتھ ہے جو نہ صرف اس دنیا کا ساتھ ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی ساتھ ہے۔ایک مومن مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بنتا ہے۔دنیا اور آخرت کے اس ساتھ کے لئے تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے، مستقل مزاجی سے اس سے تعلق جوڑتے ہوئے اور دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے چلے جاؤ۔اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا اور مانگنا کس طریقے سے ؟ یہ ہمارا کام ہے۔تکالیف آئیں تو ان کو برداشت کرو۔ان سے پریشان نہ ہو۔ان کی وجہ سے کسی قسم کا ابہام یاشبہ تمہارے دلوں میں پیدا نہ ہو۔مستقل مزاجی کے ساتھ اور لگا تار اس سے تعلق جوڑے رکھو۔یہ نہیں کہ آج دعاؤں پر زیادہ زور دے دیا۔آج نمازیں پڑھ لیں۔اگلے دن نمازوں کی طرف توجہ نہ ہوئی۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی یاد ہمیشہ ایک مومن کے دل میں رہنی چاہئے۔پس جب یہ چیز ہو گی، اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو گا اور مومن دعاؤں سے اس سے مانگ رہا ہو گا تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل بھی فرماتا ہے۔صبر کے یہ معنی بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ عمل کرنے کی مستقل کو شش کرتے چلے جانا۔اور جیسے بھی حالات ہوں گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے چلے جانا۔پس جس شخص کو اس کی بھوک، اس کا ننگ، اس کی تکالیف اور کسی بھی قسم کا لالچ جو اسے دیا جاتا ہے ، اس بات پر مجبور نہ کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا سے ہٹ کر کوئی کام کرے تو یہ اعلیٰ درجے کا صبر ہے۔اور پھر ہر قسم کے حالات میں نیکیاں بجالانے کی کوشش کرنا، نیکیوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنا، اس کے لئے تکالیف میں سے گزرنا پڑے تو گزرنا، یہ بھی صبر کی ایک قسم ہے۔پس جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر قسم کی مشکلات سے گزر کر اور کسی بھی قسم کالالچ دلانے کے باوجود گناہوں سے بچا اور نیکیوں پر قائم رہاوہ حقیقی صابر ہے۔اور پھر یہ کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ مشکلات اور تکلیفوں کے لمبے دور سے گزرنے کے باوجود خدا تعالیٰ پر کوئی شکوہ نہیں، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پر کوئی شکوہ نہیں۔جو ایسے عمل کرنے والے ہیں، اس طرح اظہار کرنے والے ہیں وہ پھر حقیقی صابر کہلاتے ہیں۔ابتلاؤں کا سلسلہ اور الہی نصرت آج کل بعض لوگوں نے احمدیوں کو اپنے ایمان سے ہٹانے کی یہ کوشش بھی شروع کی ہوئی ہے جس کا پہلے بھی میں ایک دفعہ مختصر اذکر کر چکا ہوں کہ وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت یا جماعت تم میں یہ خوش فہمی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ صبر کرو، صبر کرو اور تکالیف کا دور گزر جائے گا۔بعض جگہوں پر بعض پمفلٹ بھی تقسیم ہوئے ہیں یا اور ذریعوں سے بہکایا جاتا ہے۔یہ اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ سوسال سے زائد کا عرصہ تو گزر گیا ہے ، یہ تکلیف کا دور تو ابھی ختم نہیں ہوا اور چلتا چلا جارہا ہے، کب گزرے گا یہ دور ؟ گویا کہ احمدیوں کے جذبات کو انگیخت کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ان کے خیال میں احمدی بہت کمزور ایمان ہیں اس طرح شاید ہمارے دام