خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 533 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 533

خطبات مسرور جلد ہشتم 533 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 تبلیغ کے ضمن میں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ لیف لیٹس (Leaflets) تقسیم کرنے کی ایک سکیم بنائی گئی تھی۔یہاں UK میں بھی اس پر عمل ہوا ہے ، دنیا کے اور ملکوں میں بھی ہوا ہے اور دنیا میں اس کا بڑا اثر ہے۔جماعت کا مختصر تعارف جیسے پیش کیا گیا اور جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیار اور محبت کی تعلیم پیش کی گئی اس نے دنیا میں بڑا اثر دکھایا۔امریکہ میں بھی مہم ہوئی ہے۔وہاں تو یہ کہتے تھے کہ شاید ہم کامیاب نہ ہو سکیں لیکن جب انہوں نے Leaflets بانٹنا شروع کئے تو لوگوں نے بڑی خوشی سے اس پیغام کو وصول کیا کہ اسلام کا یہ پیغام تو ہم نے پہلی دفعہ دیکھا اور سنا ہے۔اور اس بنیاد پر اخبار کے کالم لکھنے والوں نے بھی اس میں حصہ لیا۔انہوں نے کہا کہ یہ پیغام جو تم پہنچارہے ہو اس پیغام کو ہم بھی تمہارے ساتھ تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ کئی کالم نویسوں نے ، بڑے بڑے اونچے درجہ کے کالم نویس جو بڑے نیشنل اخباروں کے ٹاپ کے لکھنے والے تھے انہوں نے اس میں حصہ لیا اور پھر اپنے کالم لکھے اور وہ اخبارات لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتے ہیں۔وہاں کے لوگ پڑھتے ہیں، Leaflets تو چند ہزار یا سینکڑوں میں تقسیم ہوئے تھے لیکن اخبار کے ذریعہ پھر جماعت کا پیغام لاکھوں کروڑوں میں پہنچ گیا۔تو یہ ذریعہ بڑا کامیاب ہوا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا بعض انکار بھی کرتے تھے لیکن جب بتایا کہ ہمارا پیغام وہ پیغام نہیں ہے جو تم سمجھ رہے ہو بلکہ یہ محبت، پیار اور بھائی چارے کا پیغام ہے تو پھر لیتے ہیں۔تو ہمارے پیغام میں اور دوسروں کے پیغام میں یہ فرق ہے جو زمانہ کے امام نے ہمیں سکھایا ہے کہ اس طرح تبلیغ کر و۔بلکہ ایک صاحب نے مجھے لکھا کہ ایک عورت کو انہوں نے پمفلٹ دیا تو اس نے بڑے غصے سے دیکھا اور کہا کہ ہیں، یہ کیا مجھے بتارہے ہو ؟ جو نائن الیون کا واقعہ ہوا۔تم نائن الیون والے ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔ہمارا یہ پیغام نہیں۔ہم مختلف ہیں۔خیر اس نے لے لیا اور اس کے بعد پھر تعریف کی۔پس اس پیغام نے نیکی اور برائی کو بھی واضح کر دیا۔جہاں احمدیت کا اصل پیغام پہنچا ہے ، اسلام کا اصل پیغام پہنچا ہے ، وہاں نیکی اور بُرائی کا فرق بھی ظاہر ہو گیا۔اصل اسلام اور بگڑی ہوئی تعلیم کو بھی واضح کر دیا۔دنیا کو پتہ لگ گیا کہ اصل اسلام کی تعلیم کیا ہے؟ اور اس سے پھر نوجوانوں میں بھی جرآت پیدا ہوئی۔امریکہ میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر بعض نوجوان جھجک رہے تھے۔لیکن جب اجتماع پر انہوں نے سکیم بنائی اور یہ پیش کیا جیسا کہ میں نے کہا کہ بعض اخباری کالم لکھنے والوں نے بھی شامل ہونے کے لئے کہا۔جب وہ شامل ہوئے تو لڑکوں میں نوجوانوں میں ایک اعتماد پید اہوا اور پھر انہوں نے باقاعدہ سکیم بنا کر اس میں حصہ لینا شروع کر دیا۔تو اس طرح جو تھوڑا سا احساس کمتری تھاوہ بھی دور ہو گیا۔کیونکہ نوجوانوں میں اسلام کے نام پر جو دوسروں سے غلط باتیں سنتے ہیں ان میں ہمارے نوجوان بھی ایسے ہیں جن کو اسلام کا پوری طرح علم نہیں، جانتے نہیں، تو ان میں احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔بہر حال غیروں کے منہ سے تعریف سن کر پھر ان میں اعتماد پیدا ہوا۔یہ ایک ابتدا ہے جو ہوئی ہے۔اس سے مزید راستے انشاء اللہ تعالی کھلیں گے۔اس لئے میں اس میں یہ