خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 532 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 532

خطبات مسرور جلد ہشتم 532 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فالْفَرِقْتِ فَرْقًا۔پھر فرق کر کے دکھلانے والوں کی شہادت ہے۔یہ تبلیغ اور ذرائع کا جو استعمال ہے یہ فرق کر کے دکھا رہا ہے۔ہر احمدی جو کسی بھی صورت میں تبلیغی مہم میں حصہ لے رہا ہے، فُرِقَاتِ فَرْقاً کا حصہ ہے۔انٹرنیٹ کے ذریعے سے، لٹریچر کے ذریعے سے یا MTA کے کارکنان جو براہِ راست اگر نہیں تو اس مشینری کا حصہ ہیں جو یہ کام سر انجام دے رہی ہے۔اس نظام کا حصہ ہیں جو دنیا میں یہ صحیفے اور کتب نشر کر رہا ہے۔آج دنیا میں اس نئی ایجاد کی وجہ سے کھیل کو د اور لغویات کی تشہیر بھی ہو رہی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا۔لیکن دوسری طرف اللہ والوں کا ایک گروہ ہے جو نیکی کی باتیں پھیلا رہے ہیں۔مسیح محمدی کے غلاموں کا ایک گروہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے کوشاں ہے۔گو بعض دوسرے چینل بھی اسلام کی تعلیم پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ایک محدود وقت کے لئے اور پھر اس میں زمانہ کے حکم اور عدل کو چھوڑنے کی وجہ سے ایسی ایسی تشریحات اور بدعات بھی ہیں جو بعض دفعہ تعلیم کی روح کو بگاڑ دیتی ہیں۔اب مثلاً یہی سوال جواب کے پروگرام آتے ہیں۔کسی نے مجھے لکھا کہ فلاں مولوی صاحب یہ تشریح پیش کر رہے تھے کہ عورتوں کے لئے اب پر دہ ضروری نہیں ہے کیونکہ قرآنِ شریف میں صرف سینے پر اوڑھنیوں کو لپیٹنے کا حکم ہے۔کہیں سر ڈھانکنے کا حکم نہیں ہے۔حالانکہ بڑا واضح لکھا ہے اور پھر کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو آنحضرت صلی اللہ علم کی ازواج کے لئے تھا۔حالانکہ اسی آیت میں مومنات کے لئے بھی حکم ہے۔تو بہر حال یہ غلط قسم کی توجیہات پیدا کی جاتی ہیں۔پھر بدعات پیدا کی جاتی ہیں۔بہانے بنائے جاتے ہیں کہ کس طرح اسلامی حکموں کو ٹالیں۔اس طرح یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہے ، اسلام کی تعلیم ہے اس کی روح کو بگاڑ دیتے ہیں۔پس اصل تعلیم وہی ہے جو اس غلام صادق کے ذریعے پھیل رہی ہے جو زمانے کا حکم عدل ہے۔اور یہی تعلیم ہے جو حق اور باطل اور صحیح اور غلط اور خالص دینی اور بدعات کی ملونی میں فرق کر کے دکھلانے والی ہے۔پس مسیح موعود کا کام بطور حکم عدل کے کالفرقتِ فَرِّقا کی حقیقی تشریح کرنا ہے۔پس ہمیں اس ماحول سے نکل کر جو آج کل دنیاداری کا ماحول ہے اس حقیقی ماحول کو اپنانے کی ضرورت ہے ، اس پر قائم رہنے کی ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں کے لئے پیش فرمایا ہے۔ورنہ ہم میں اور دوسروں میں تو کوئی فرق نہیں ہے۔فرق تبھی واضح ہو گا جب ہماری تبلیغ کے ساتھ ، جب ہمارے پروگراموں کے ساتھ ہمارے اپنے اندر بھی وہی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہوں گی۔ہم اپنے نفس کے بھی جائزے لے رہے ہوں گے۔جو تعلیم دے رہے ہوں گے ، جس تعلیم کو سمجھ رہے ہوں گے اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہوں گے۔اس کے نمونے بھی دکھا رہے ہوں گے۔پس اسلام کی جس خوبصورت تصویر کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمایا ہے اور جو فرق کر کے دکھایا ہے جو اصل میں وہ تصویر ہے جو آنحضرت صلی ی ی ی ی یم نے پیش فرمائی ہے۔اسی کی آج دنیا کو ضرورت ہے۔اسی کی آج ہمیں ضرورت ہے۔