خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 526
526 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 غمخوار ہوئے اور ناشناسا ہو کر بھی آشناؤں کا سا ادب بجالائے۔خدا تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو۔اگر نشانوں کے دیکھنے کے بعد کوئی کھلی صداقت کو مان لے گا تو مجھے کیا اور اس کو اجر کیا اور حضرت عزت میں اس کی عزت کیا“۔( یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اس کی عزت کیا ) ” مجھے در حقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھ کو دیکھا اور فراست سے میری باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا اور میرے کلام کو سنا اور اس میں غور کی۔تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے ان کے سینوں کو کھول دیا اور میرے ساتھ ہو گئے۔میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے اور اپنے نفس کے ترک اور اخذ کیلئے مجھے حکم بناتا ہے اور میری راہ پر چلتا ہے اور اطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جلد سے باہر آگیا ہے۔مجھے آہ کھینچ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کھلے نشانوں کے طالب وہ تحسین کے لائق خطاب اور عزت کے لائق مرتبے میرے خداوند کی جناب میں نہیں پاسکتے جو ان راستبازوں کو ملیں گے جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پہچان لیا اور جو اللہ جلشانہ کی چادر کے تحت میں ایک چھپا ہوا بندہ تھا اس کی خوشبو ان کو آگئی۔انسان کا اس میں کیا کمال ہے کہ مثلاً ایک شہزادہ کو اپنی فوج اور جاہ و جلال میں دیکھ کر پھر اس کو سلام کرے۔باکمال وہ آدمی ہے جو گداؤں کے پیرایہ میں اس کو پاوے اور شناخت کر لیوے۔مگر میرے اختیار میں نہیں کہ یہ زیر کی کسی کو دوں۔ایک ہی ہے جو دیتا ہے۔وہ جس کو عزیز رکھتا ہے ایمانی فراست اس کو عطا کرتا ہے۔انہیں باتوں سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں اور یہی باتیں ان کے لئے جن کے دلوں میں کجی ہے زیادہ تر کمی کا موجب ہو جاتی ہیں“۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ 349-350 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ ہمارے ایمانوں کو مضبوط کرتا چلا جائے اور دنیا کی آنکھیں کھولے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 44 مورخہ 29 اکتوبر تا 4 نومبر 2010 صفحہ 5 تا 7)