خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 514
خطبات مسرور جلد ہشتم 514 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم اکتوبر 2010 انگا دنگا استثناء کے علاوہ عموماً بچوں کو دین سے گہر الگاؤ ہوتا ہے۔ایسی ہی عورتوں کے متعلق ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ ” میں نے دیکھا ہے کہ بعض عورتیں بسبب اپنی قوت ایمانی کے مردوں سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔فضیلت کے متعلق مردوں کا ٹھیکہ نہیں۔جس میں ایمان زیادہ ہوا وہ بڑھ گیا۔خواہ مرد ہو ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 268 مطبوعہ ربوہ) خواہ عورت۔“ تو ہماری تو ہر عورت کو یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔مرد اور عورت میں ایک دوڑ ہو۔دونوں طرف سے نیکیوں میں آگے بڑھتے چلے جانے کی ایک کوشش ہو۔جب یہ صورت پیدا ہو جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ دیکھیں گے کہ نئی نسل کس طرح خدا تعالیٰ کے قریب ہوتی چلی جائے گی۔یہ شرائط بیعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے بیان فرمائی ہیں ان میں یہ تخصیص کوئی نہیں ہے کہ یہ مردوں کے لئے ہیں اور عورتوں کے لئے نہیں۔بلکہ ہر دو اور ہر طبقے کے لئے ہیں۔پس جو بھی ان نیکیوں پر قدم مارنے والا ہو گا وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والا بن کر اپنی دنیا و عاقبت سنوار لے گا اور اپنے بچوں اور اپنی نسلوں کی حفاظت اور تقویٰ پر چلنے کے سامان کرلے گا۔پس عورتوں کو بھی ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بچوں کی تربیت میں مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے ایک دوسرے کے لئے دعا کرتے ہوئے اگلی نسل کی تربیت میں بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔مرد یا عورت جو بھی اپنے فرض کو ادا نہیں کرے گا وہ اپنے عہد کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے پو چھا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس زمانے کے امام کے ساتھ سچا اور حقیقی وفا اور اطاعت کا تعلق پیدا ہو اور ہم آپ کی تو قعات اور تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوں۔اور ہماری ایک کے بعد دوسری نسل توحید کے قیام اور عبادتوں کے معیار قائم کرنے کی بھر پور کوشش کرتی چلی جائے۔آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ”یہ بھی یاد رکھو کہ اگر تم مداہنہ سے دوسری قوموں کو ملو“ یعنی کمزوری دکھاتے ہوئے اپنے مذہب چھپاتے ہوئے کسی قسم کے احساس کمتری کی وجہ سے اگر تم ملو تو فرمایا کہ ”تو کامیاب نہیں ہو سکتے“۔یعنی کبھی کمزوری نہیں دکھانی چاہئے نہ اپنا دین چھپانا چاہئے نہ اپنی دینی تعلیم پر کسی قسم کی شرمساری ہونی چاہئے۔بلکہ تبلیغ کے میدانوں میں تبلیغ بھی کھل کر کرنی چاہئے۔کیونکہ اسی سے کامیابی ملنی ہے۔فرمایا ”خدا ہی ہے جو کامیاب کرتا ہے۔اگر وہ راضی ہے تو ساری دنیا ناراض ہو تو پرواہ نہ کرو۔ہر ایک جو اس وقت سنتا ہے یاد رکھے کہ تمہارا ہتھیار دُعا ہے اس لئے چاہئے کہ دعا میں لگے رہو۔یہ یاد رکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اور حیلہ“۔گناہ اور برائیاں جو ہیں،