خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 493 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 493

خطبات مسرور جلد ہشتم 493 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 ستمبر 2010 گی وہاں آپ کو مختلف طریقوں سے لوگوں تک پیغام حق پہنچانے کی بھی پہلے سے بڑھ کر کوشش کرنی ہو گی۔جیسا کہ میں اکثر بیان کیا کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر اسلام کا تعارف کروانا ہے اور پیغام حق پہنچانا ہے تو جس علاقے میں یہ مقصد حاصل کرنا ہے وہاں مسجد بنادو۔تو مجھے امید ہے کہ مسجد کی تعمیر کے ساتھ آپ بھی مجبور کئے جائیں گے کہ تبلیغ میں وسعت پیدا کریں۔اگر اپنے عہدوں کو پورا کرنا ہے ، اگر اپنی وفا کا ثبوت دینا ہے۔تو نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کو وسعت پیدا کرنی پڑے گی۔لیکن اس کے ساتھ ہی ہر احمدی کو جو یہاں رہتا ہے ، مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا، اپنے نمونے بھی قائم کرنے ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور تو بہ اور استغفار بھی کرتے رہنے کی ضرورت ہو گی تاکہ اللہ تعالیٰ طاقت بخشے کہ نیک اعمال بجالانے کی توفیق ملتی رہے۔دیکھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام تو خانہ کعبہ کی بنیادیں کھڑی کرتے وقت صرف دو افراد تھے ، لیکن جب تعمیر شروع کی تو اس یقین پر قائم تھے کہ اللہ تعالیٰ جو اتنا اہم کام کروا رہا ہے تو آئندہ ہماری نسل میں بھی وسعت پیدا کرے گا۔اس لئے ان کے لئے بھی ساتھ ہی دعا کی کہ جو بھی ذریت آنے والی ہے وہ بھی اس اہم مقصد کو پیش نظر رکھے۔لیکن ہم جو آنحضرت صلی علی نظم کی امت ہیں۔اور پھر آپ صلی این نیم کے عاشق صادق کے ساتھ وابستہ ہیں ہم تو اس بڑھتی ہوئی ذریت اور امت کو دیکھ بھی رہے ہیں۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ابراہیم کے الہامی نام سے پکارا ہے۔پس اس ابراہیم کی دعائیں بھی قبول ہوئیں اور ہو رہی ہیں۔ہم نے مشاہدہ کی ہیں اور کرتے ہیں، کر رہے ہیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک عربی الہام میں اس طرح فرمایا تھا کہ رِيحُكَ وَلَا أَجِيْحُكَ وَأُخْرِجُ مِنْكَ قَوْمًا کہ میں تجھے آرام دوں گا اور تیرا نام نہیں مٹاؤں گا اور تجھ سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا“۔آپ فرماتے ہیں کہ ”اس کے ساتھ ہی دل میں ایک تفہیم ہوئی جس کا یہ مطلب تھا جیسا کہ میں نے ابراہیم کو قوم بنایا “۔( تذکرہ صفحہ 530 ایڈیشن چہارم) پس آنحضرت صلی ال نام کے غلام صادق کے ذریعے جو قوم بن رہی ہے وہ تو خدا تعالیٰ کی خاص تائید اور نصرت کے ذریعہ بن رہی ہے۔اور اس قوم کی عبادت کے سامان کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مساجد بھی بنانے کی توفیق عطا فرما تا چلا جارہا ہے۔لیکن اس تعمیر کی برکات سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھانے کے لئے ہمیں تو بہ واستغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعلق میں ہر دم بڑھتے چلے جانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی اس کے پھل ہمیشہ کھاتی چلی جائیں۔ہماری قربانیاں اللہ تعالیٰ کے حضور قبول ہو جائیں۔ہماری عبادتوں کے معیار بلند ہوتے رہیں اور ہم اپنی نسلوں میں بھی احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے ساتھ مضبوط تعلق کی روح قائم کرتے چلے جانے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 41 مورخہ 8 اکتوبر تا 14 اکتوبر 2010 صفحه 5 تا8)