خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 492 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 492

خطبات مسرور جلد ہشتم 492 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 ستمبر 2010 ہوتی رہے۔ایسی مسجدیں بھی ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مثال دی کہ ان کی بنیاد ہی فساد پر تھی۔لیکن ہم نے تو وہ مسجد اٹھانی ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر اٹھائی گئی تھی۔پس مسجد کی بنیاد کی اصل خوشی یہ ہے کہ یہ ہمیں پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنا دے۔اور جب اس کی تعمیر مکمل ہو تو عبادت کے لئے بے چنین دلوں سے یہ بھر جائے۔پھر اس آیت میں یہ بھی دعا ہے کہ ہمیں اپنی ایسی عبادتوں کے طریق سکھا، ہمیں ایسی قربانیوں کے طریق سکھا جو تیرے حضور مقبول ہونے والی ہیں۔ہماری عبادتوں کے معیار بھی پہلے سے بڑھتے چلے جائیں۔اور ہماری قربانیوں کے معیار بھی پہلے سے بڑھتے چلے جائیں۔پس یہ مسجد ، یہاں رہنے والوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالنے جارہی ہے ، اگر اس اصل کو پکڑ لیں گے تو ہم اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے فضل سے مقبول ہو جائیں گے۔آخر میں پھر اس آیت میں یہ دعا کی گئی ہے کہ تب عَلَيْنَا۔ہم پر تو بہ قبول کرتے ہوئے جھک جا۔یعنی چاہے جتنی بھی ہم کوشش کریں، اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دیں، حقوق العباد کی طرف توجہ دیں، اپنی اولاد کی اصلاح کی طرف توجہ دیں، تیرے پیغام کو پہنچانے کی طرف توجہ دیں، تو پھر بھی ہمارے کاموں میں خامیاں رہ جائیں گی۔یہ بشری تقاضے ہیں۔کمیاں بھی رہ جائیں گی۔ایسا نہ ہو کہ ہماری بستیوں کی وجہ سے یہ کام جو ہمارے سپرد ہیں یہ آگے ٹل جائیں۔پس ہم یہ دعاما نگتے ہیں کہ اے اللہ ! اپنے فضل سے ہماری طرف توجہ رکھنا اور ہمیں معاف کر دیا کرنا۔اگر یہ ستیاں اور خامیاں رہ جائیں تو ہم سے در گزر کرنا۔تو بہت زیادہ تو بہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس تو بہ اس کی قبول ہوتی ہے جو جان بوجھ کر غلطیوں میں نہ پڑے اور بار بار رحم بھی اس پر ہوتا ہے جو بار بار رحم مانگتا ہے۔پس دعاؤں کا اور نیک اعمال بجالانے کا، اور برائیوں سے بچتے رہنے کا۔اور اس کے لئے کوشش کرتے چلے جانے کا یہ تسلسل ہے۔اگر یہ ایک تسلسل قائم رہے تو خدا تعالیٰ بھی فضل اور رحم فرما دیتا ہے۔اور مسجد کی تعمیر اور خدا کے گھر کی تعمیر کے ساتھ اس کو جوڑ کر جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے ہمیں اپنی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔تبلیغ اور اس میں وسعت پیدا کرنے کی ضرورت آج اس مسجد کی بنیا د رکھنے کی تقریب کے ساتھ پریس اور میڈیا کے لوگوں کو بھی توجہ پیدا ہو گی۔بہت سے احمدی جن کو پہلے کوئی نہیں جانتا تھا یا جماعت کا تعارف اس طرح نہیں تھا، شاید اس تقریب کے بعد لوگوں کی توجہ پیدا ہو۔بلکہ مختلف ممالک کے تجربے سے یہی پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کی توجہ پیدا ہوتی ہے۔جوں جوں عمارت بلند ہوتی جائے گی یہ عمارت مزید توجہ کھینچے گی اور جب توجہ کھینچے گی توہر وہ احمدی جو یہاں رہتا ہے اس کی اہمیت بھی بڑھے گی۔تو اس کو یہ احساس بھی ہونا چاہئے کہ میری اہمیت بڑھ رہی ہے۔آپ لوگ یہاں مقامی لوگوں کی نظر میں آئیں گے۔تو اس سے مجھے امید ہے کہ جہاں تبلیغ کے راستے کھلیں گے اور تبلیغ میں وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہو