خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 474

474 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 ستمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم پھر یہ دعا ہے کہ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف:24) اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم گھاٹا کھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتدا میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے ذریعہ زیر کیا تھا۔اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گانہ تلوار سے“۔( پس ہمارا ہتھیار (الحکم جلد 7 نمبر 12 مورخہ 31 مارچ 1903ء صفحہ 8 کالم 3) تلوار نہیں بلکہ دعا ہے)۔شیطان پر ) آدم اول کو فتح دعا ہی سے ہوئی تھی۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا۔(الاعراف:24) اور آدم ثانی ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) کو بھی جو آخری زمانہ میں شیطان سے آخری جنگ کرنا ہے اسی طرح ( ملفوظات جلد سوم صفحہ نمبر 190,191 جدید ایڈیشن ربوہ) دعا ہی کے ذریعہ فتح ہو گی“۔پھر ایک دعا سکھائی۔ربَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران : 9) اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے، بعد اس کے کہ تو ہمیں ہدایت دے چکا ہو اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر۔یقینا تو ہی ہے جو بہت عطا کرنے والا ہے۔پھر یہ دعا ہے کہ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَانَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى وقفة الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا (البقره:287) عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ اے ہمارے رب! ہمارا مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا ہو جائے۔اور اے ہمارے رب ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا ( ان گناہوں کے نتیجہ میں) ہم سے پہلے لوگوں پر تو نے ڈالا۔اور اے ہمارے رب! ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہو۔اور ہم سے در گزر کر ، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم کر۔تو ہی ہمارا والی ہے ، پس ہمیں کافر قوم کے مقابل پر نصرت عطا کر۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا اس طرح ترجمہ فرمایا ہے کہ: یعنی اے ہمارے خدا! نیک باتوں کے نہ کرنے کی وجہ سے ہمیں مت پکڑ جن کو ہم بھول گئے اور بوجہ نسیان ادانہ کر سکے “۔( ایسی باتیں جن کو ہم بھول کر ادا نہ کر سکے ان کی وجہ سے پکڑ نہ کر)۔اور نہ ان بد کاموں پر ہم سے مواخذہ کر جن کا ارتکاب ہم نے عمد ا نہیں کیا۔( ایسے ادھورے کام جن کا ارتکاب ہم نے جان بوجھ کر