خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 455

455 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم میسر کر رہا ہے۔رمضان کے روزے اور اس کی عبادتیں بھی ایک خاص مجاہدہ ہیں اگر انسان سمجھ کر کرے۔اس کو سمجھے ، اس کی روح کو سمجھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتی ہیں۔پس اس روحانی ماحول میں ہمیں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کے حوالے سے بات کروں گا کہ کیا کیا باتیں اور طریق ہیں جن کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور جن کو اختیار کر کے ، جن پر توجہ دے کر ہم اللہ تعالیٰ کا قرب پاسکتے ہیں اور ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کو محسنین کا گروہ بنا کر اللہ تعالیٰ نے ایک خوشخبری دی ہے کہ میں محسنین کے ساتھ ہوں۔یعنی میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں جو نیک اعمال بجالانے والے ہیں۔نیکیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔میرے راستوں کی تلاش کرنے والے ہیں۔اس کی تفصیل جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ہم دیکھیں گے کہ اب کس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے راستوں کو پا کر ہمیشہ اس گروہ میں شامل رہ سکتے ہیں جن کے ساتھ خدا تعالیٰ ہمیشہ رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو قرآنِ کریم کی مختلف آیات سے اور ان کی آیات کی روشنی میں وضاحت فرمائی ہے۔لیکن اس وقت جیسا کہ میں نے کہا اس خاص آیت کے حوالے سے بات کروں گا جس کی آپ نے مختلف جگہوں پر تفصیل بیان فرمائی ہے۔ہر انسان کی استعدادیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔اس کی سوچیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔جہاں تک استعدادوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی استعدادیں اور طاقتیں معیار کے حساب سے مختلف رکھی ہیں جیسا کہ میں نے کہا لیکن حکم یہ ہے کہ جو بھی استعدادیں ہیں ان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی تلاش اور جستجو کرو۔اگر یہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف آنے کے راستے دکھائے گا۔لیکن اگر انسانی سوچ ان استعدادوں کے انتہائی استعمال میں روک بن جائے، نفس مختلف بہانے تلاش کرنے لگے، تھوڑی سی کوشش کو جہد کا نام دے دیا جائے تو اس سے انسان اللہ تعالیٰ کو حاصل نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ جو شخص نہایت لا پرواہی سے سستی کر رہا ہے وہ ایسا ہی خدا کے فیض سے مستفیض ہو جائے جیسے وہ شخص کہ جو تمام عقل اور تمام زور اور تمام اخلاص سے اس کو ڈھونڈھتا ہے“۔( براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 566 حاشیہ نمبر 11) پس خالص ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ کی تلاش کرنے والے ہی اللہ تعالیٰ کو پاسکتے ہیں۔یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے مختلف درجے ہیں جو ایک جہد مسلسل سے اللہ تعالیٰ کی توجہ کو جذب کر کے انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق کوشش کرنے کی