خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 454

خطبات مسرور جلد ہشتم 454 36 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010ء بمطابق 03 تبوک 1389 ہجری شمسی بمقام بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنكبوت: 70) اور وہ لوگ جو ہمارے بارہ میں کوشش کرتے ہیں، ہم ضرور انہیں اپنی راہوں کی طرف ہدایت دیں گے اور یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔دعاؤں کی قبولیت کا خاص مہینہ یہ آیت سورۃ عنکبوت کی ہے۔آج کل ہم رمضان کے آخری عشرہ سے گزر رہے ہیں۔یہ مہینہ جیسا کہ ہر مسلمان جانتا ہے دعاؤں کی قبولیت کا خاص مہینہ ہے۔اور یہ عشرہ اس قبولیت کی معراج حاصل کرنے کا خاص عشرہ ہے، ج ، جس میں لیلۃ القدر آتی ہے۔جس کا میں نے گزشتہ خطبہ میں تفصیل سے ذکر بھی کیا تھا۔آج کا دن بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں ایک بابرکت دن ہے یعنی جمعہ کا دن، جو اپنی تمام تر برکتوں کے ساتھ ہر ساتویں دن آتا ہے، جس میں ایک خاص گھڑی قبولیت دعا کی بھی آتی ہے۔پس یہ تمام برکتیں ان دنوں میں جمع ہوئی ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے اپنے بندوں پر احسانوں کی طرف توجہ دلا رہی ہیں۔یہ توجہ عارضی توجہ نہیں ہونی چاہئے بلکہ مستقل مزاجی سے اس امر کی طرف متوجہ کرنے والی ہونی چاہئے جس کا اس آیت میں ذکر ہے جس کی میں نے تلاوت کی ہے۔یعنی خدا کی تلاش کے لئے جد وجہد۔اگر یہ جد وجہد کامیاب ہو جائے تو ایک بندے کو خدا تعالیٰ کا قرب دلا کر اس کی کایا پلٹ دیتی ہے۔جد وجہد کامیاب کس طرح ہو گی جس سے خدا تعالیٰ اپنی طرف آنے کے راستے دکھائے گا؟ جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم سے ملنے کی کوشش کرتے رہو۔ایک مستقل مزاجی سے کوشش ہونی چاہئے اور جب اللہ سے ملنے کی کوشش ہو گی تو ظاہر ہے ان باتوں کا بھی خیال رکھنا ہو گا جو خدا تعالیٰ کو پسند ہیں اور اس کے قریب کرتی ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ ایسا ماحول پیدا کر دیتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کی خاص توجہ ہوتی ہے۔اور آج کل رمضان کا مہینہ ہمیں اس کوشش اور جد وجہد کا موقع