خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 451

خطبات مسرور جلد ہشتم 451 خطبه جمعه فرموده مورخه 27 اگست 2010 حرکت ہوتی ہے۔حرکت تامہ اور حرکت ناقصہ۔ایک صحیح اور مکمل حرکت اور ایک کمزور اور نقص والی حرکت۔حرکت تامہ سے جو صحیح حرکت ہے اس سے روح کی صفائی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ سے ہدایت کی تلاش ہوتی ہے تو اللہ تعالی رہنمائی فرماتا ہے۔انسان عقل و فہم سے کام لے کر حق کو پہچان لیتا ہے۔بعض نشانات ظاہر ہوتے ہیں تو ان کے اشارے سمجھ کر حق کو پہچان لیتا ہے۔بعض سعید روحوں کو اللہ تعالیٰ ویسے بھی رہنمائی فرما دیتا ہے۔آنحضرت صلی لی ایم کے زمانے میں ایسے سعید فطرت لوگ تو آپ کو پہچان گئے جن کے دلوں میں نیکی تھی، جنہوں نے اپنے دل، جذبات کو صحیح راستے پر چلایا۔لیکن ابو جہل جیسے لوگ جو اپنے زعم میں اپنے آپ کو عقل مند سمجھتے تھے وہ محروم رہ گئے اور ہلاک ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی حضرت مولانا حکیم نور الدین خلیفہ المسیح الاوٹ کی مثال لے لیں۔حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف شہید کی مثال لے لیں۔ان جیسے لوگ باوجو د فاصلے کی دوری کے ساری دوریوں کو سمیٹتے ہوئے، سارے فاصلوں کو سمیٹتے ہوئے آپ کے قدموں میں آگئے اور قبول کر لیا۔اور مولوی محمد حسین بٹالوی جیسے لوگ جو قریب رہنے والے تھے جو بچپن کے دوست تھے وہ دشمنی کی وجہ سے محروم رہ گئے۔یہ محروم رہنے والے جو ہیں ان کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ باعث عدم سلامت استعداد کے رو بحق نہیں ہو سکتا۔پس ان کی استعدادیں نیکی اور سلامتی قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتیں۔ان کے دل ٹیڑھے ہوتے ہیں۔دلوں میں تکبر ہوتا ہے۔اور خود پسندی ہوتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ بھی ان کی مدد نہیں کرتا۔ان کی رہنمائی نہیں کرتا۔بلکہ ان کا مرض جو ہے بڑھتا چلا جاتا ہے۔فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا۔فرمایا کہ ایسے لوگوں کی عقل و فہم میں حرکت بجائے مثبت طرف چلنے کے منفی ہو جاتی ہے۔اور اس منفی سوچ کی وجہ سے ان کی جو روحانی حالت ہے وہ پہلی حالت سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔پس آج بھی یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منکرین کا ہے۔اپنے زعم میں نیکی کی باتیں بھی کر رہے ہوتے ہیں تو ان کی نیکی کی باتوں کا اثر نہیں ہو رہا ہوتا۔کیوں نہیں ہو رہا ہوتا؟ اس مخالفت کی وجہ سے جو وہ حضرت مسیح موعود کی کر رہے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی تقدیر بھی اس کا منطقی نتیجہ پیدا کر رہی ہوتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے فرستادے کی مخالفت کی جائے تو زبان میں نیکی کی باتوں کا اثر بھی نہیں رہتا۔برائی کی باتوں کا بے شک رہ جائے۔ان کی باتوں میں روحانیت نہیں ہوتی۔ہر بات بے دلیل ہوتی ہے۔الفضل انٹر نیشنل میں طاہر ندیم صاحب عربوں کے حالات سے متعلق مضمون لکھتے ہیں۔اس دفعہ بھی الفضل میں طاہر بانی صاحب جو ہمارے عرب ہیں اور ایک واقف زندگی بھی ہیں اور محنت سے عربی ڈیسک کا کام کر رہے ہیں۔ان کے قبول احمدیت کی کہانی ان کی زبانی بیان ہو رہی تھی۔احمدیت قبول کرنے سے پہلے پانی صاحب کہتے ہیں کہ میری یہ کوشش ہوتی تھی کہ احمدیت کے رد اور مخالفت میں میں ہر طرح کی مدد حاصل کروں، حربہ استعمال کروں لیکن جب انہوں نے بعض کتابیں پڑھیں تو دلیل کے لئے ایک عالم کے پاس گئے۔وہ ان کے خیال میں ایسے صاحب علم تھے کہ وہ منٹوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو یہ سب دعاوی تھے یا جماعت جو