خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 447
خطبات مسرور جلد ہشتم 447 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 لیلۃ القدر کے وسیع تر معانی لیکن اس کے اور بھی بڑے وسیع معنے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائے ہیں جیسا کہ میں نے کہا اس سورۃ سے ظاہر ہے اس سورۃ میں لکھا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ کہ ہم نے اسے قدر والی رات میں اتارا ہے۔کس چیز کو قدر والی رات میں اتارا ہے؟ وہ یہ مکمل اور کامل شریعت ہے جو قرآنِ کریم کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔یہ ایک تو رمضان میں قرآنِ کریم کے نازل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔جیسا کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرآنُ ( البقرہ: 186) کہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآنِ کریم اتارا ہے اور اس رمضان میں وہ لیلتہ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔پس مختصر یہ کہ رمضان کے مہینے میں قرآن کا نزول شروع ہوا اور جیسا کہ روایات سے پتہ چلتا ہے، اس مہینے میں جبرئیل علیہ السلام اس کی آنحضرت صلی للی نم کو دہرائی بھی کر وایا کرتے تھے۔( بخاری کتاب فضائل القرآن باب كان جبريل يعرض القرآن على النبي صلى الله علم حدیث نمبر 4997) پھر اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ زمانے کی ضرورت اس بات کی متقاضی تھی کہ کوئی کامل ہدایت اترے کیونکہ وہ ایک اندھیر ازمانہ تھا جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :42) كه خشکی اور تری میں فساد بر پا تھا۔پس وہ زمانہ جس میں یہ فساد برپا تھا تقاضا کر رہا تھا کہ ہدایت آئے۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کی اس اہمیت کی وجہ سے جو خشکی اور تری میں فساد برپا تھا جس کی نظیر نہ پہلے زمانوں میں ہوتی تھی نہ بعد کے زمانے میں ملتی ہے۔اس لئے کامل ہدایت کی ضرورت تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل کتاب نازل فرمائی جس کا قرآنِ کریم میں دوسری جگہ اس طرح ذکر ملتا ہے۔سورۃ دخان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کہ حم وَ الْكِتَبِ الْمُبِينِ - اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَرَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ امْرِ حَكِيمٍ - أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ - رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (الدخان: 6-2) صاحب حمد اور صاحب محمد۔حمہ کا مطلب ہے صاحب حمد اور صاحب مجد۔قسم ہے اس کتاب کی جو کھلی اور واضح ہے۔یقینا ہم نے اسے ایک بڑی مبارک رات میں اتارا ہے۔ہم بہر صورت انذار کرنے والے تھے۔اس (رات) میں ہر حکمت والے معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ایک ایسے امر کے طور پر جو ہماری طرف سے ہے۔یقیناً ہم ہی رسول بھیجنے والے ہیں۔رحمت کے طور پر تیرے رب کی طرف سے۔بے شک وہی بہت سننے والا ( اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔پس یہ مبارک زمانہ اور مبارک رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر رحم فرماتے ہوئے کھلی، واضح،