خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 439

439 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم موصی تو میں نے بتایا کہ تھے ہی لیکن نمازیں بڑے خشوع و خضوع سے پڑھنے والے تھے۔چندوں میں بڑے با قاعدہ اور بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔پسماندگان میں اہلیہ ہیں اور بیٹی شافیہ حسن عمر پانچ سال اور بیٹا محمد حسن عمر دو سال اور ایک بیٹی ملیحہ حسن اڑھائی ماہ۔اور تینوں بچے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف نو کی تحریک میں شامل ہیں۔دوسری شہادت مکرم حبیب الرحمن صاحب سانگھڑ کی ہے۔حبیب الرحمان صاحب کا آبائی تعلق ضلع گجرات سے ہے۔آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے دادا کے بھائی حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ سے ہوا۔ان کے بعد آپ کے دادا حضرت پیر برکت علی صاحب بھی بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہو گئے۔آپ کے دادا کے بھائی پہلے احمدی ہوئے تھے پھر آپ کے دادا احمدی ہوئے۔بعد ازاں انہی کے دو بھائی حضرت پیر افتخار علی صاحب اور حضرت حافظ روشن علی صاحب بھی بیعت کر کے 1901ء میں احمدیت میں داخل ہو گئے۔1912ء میں آپ کے خاندان کے بڑوں نے کچھ زمین سندھ میں خریدی جس کی وجہ سے سندھ میں شفٹ ہو گئے۔حبیب الرحمن صاحب کی پیدائش 1950ء میں سانگھڑ میں ہوئی۔اور تعلیم انہوں نے ربوہ میں حاصل کی۔ربوہ میں جب یہ تعلیم حاصل کر رہے تھے تو میرے ساتھ ہی پڑھتے تھے۔بڑے ہنس مکھ اور خوش مزاج تھے اور اچھی لیکن پاکیزہ مجلس لگانے والے۔حبیب الرحمن صاحب شہید 19 اگست 2010ء کو صبح ساڑھے دس بجے گھر سے اپنی زرعی زمینوں کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں ایک موڑ پر جب کار کی رفتار آہستہ ہوئی تو دو نا معلوم نقاب پوش موٹر سائیکل سواروں نے موقع پاکر آپ پر فائرنگ کر دی۔جس سے گولی آپ کی کنپٹی پر لگی اور موقع پر جام شہادت نوش فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔جیسا کہ میں نے بتایا آپ کی پیدائش 1950ء کی تھی۔ساٹھ سال آپ کی عمر تھی۔1990ء میں بچوں سمیت امریکہ شفٹ ہو گئے تھے۔امریکہ جانے سے پہلے آپ قائد مجلس خدام الاحمدیہ سانگھڑ اور قائد ضلع سانگھڑ کے طور پر بھی خدمت کی توفیق پاتے رہے۔جماعتی طور پر سیکرٹری مال کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔امریکہ میں آپ کو alislam۔org جو جماعت کی ویب سائٹ ہے ، اس میں بڑی نمایاں خدمت کی توفیق ملی ہے۔اور ابتدائی کارکنان میں سے تھے اور بڑے اچھے ورکر تھے۔اور اسی طرح ور کر اور کام کرنے والے تلاش کرنے میں بھی آپ نے بڑا کام کیا ہے۔2006ء میں آپ کے بھائی ڈاکٹر مجیب الرحمن صاحب کو شہید کر دیا گیا تھا تو آپ بوڑھے والد کی خدمت کرنے کے لئے امریکہ سے سانگھڑ شفٹ ہو گئے تھے۔اور یہاں شفٹ ہونے کے کچھ عرصے بعد جب ان کو تحریک کی گئی تو پھر اپنے شہید بھائی کی جو بیوہ تھی ان سے ان کی شادی ہو گئی۔کیونکہ ان کی بیوی پہلے فوت ہو چکی تھی۔نمازوں کے پابند ، چندہ جات کی ادائیگی کے بڑے پابند ، خلافت سے بڑا