خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 408 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 408

خطبات مسرور جلد ہشتم 408 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اگست 2010 ضروری ہے۔ہر وقت اس کو اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ کے تمام کام بخیر و خوبی اپنے انجام کو پہنچے اس کے لئے ہم جہاں سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے شکر گزار ہیں وہاں ان سب کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے تمام کاموں اور امور کی انجام دہی کے لئے دن رات ایک کی ہے۔کئی کارکنان ہیں جنہوں نے جلسہ سے کئی دن پہلے تک، کئی کئی گھنٹے وقار عمل کیا اور حدیقہ المہدی میں ایک عارضی شہر قائم کر دیا اور اب تک یہ وقار عمل چل رہے ہیں جب وہاں سے سب کچھ اٹھانا بھی ہے، سمیٹنا بھی ہے، صفائی بھی کرنی ہے۔بے شک یہ مارکیز جو لگائی جاتی ہیں کمپنی والے خود ہی اپنی چیز میں اتار رہے ہیں۔لیکن پھر بھی وائینڈ آپ کا بہت زیادہ کام ہو تا ہے جو کافی دن تک چلتا رہتا ہے۔بہر حال یہ سب لوگ شکریہ کے مستحق ہیں۔جلسہ میں شامل ہونے والے مہمانوں کو بھی، ان کارکنان کا بھی اور باقی تمام شعبوں کے کارکنوں کا بھی شکر گزار اور احسان مند ہونا چاہئے۔جہاں تک غیر از جماعت مہمانوں کا تعلق ہے جو مختلف ممالک سے آئے ہوئے تھے وہ خاص طور پر مجھے شکریہ ادا کر کے گئے ہیں کہ ان کا بے حد خیال رکھا گیا۔کھانا، پینا، رہائش، ٹرانسپورٹ غرض جو جو شعبہ بھی ان کی خدمت پر مامور تھا ان سب نے بلا استثناء تمام خدمت کرنے والوں کی بے انتہا تعریفیں کی ہیں۔اور اس بات نے ہمیشہ کی طرح انہیں متاثر بھی کیا ہے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ کس طرح ہمہ وقت معمولی معمولی خدمت بھی انتہائی خوش دلی سے اور خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہے تھے۔جلسہ کی خوش کن بات اس سال جلسہ کی خوش کن بات یہ بھی ہے کہ بعض لوگ جو تنقید کے بڑے ماہر ہوتے ہیں اور کوئی نہ کوئی سقم یا کمی نکال لیتے ہیں۔کیونکہ ہر کام میں مکمل طور پر پرفیکشن (Perfection) تو بہر حال نہیں ہو سکتی۔بہر حال یہ اچھی بات ہے شعبہ جات کو اپنے کاموں میں بہتری کی طرف راہنمائی مل جاتی ہے۔میں ان کی عادت یا نقائص کی نشاندہی پر اعتراض نہیں کر رہا جیسا کہ میں نے کہا کہ اچھی بات ہے راہنمائی ہو جاتی ہے اور عادت کا بھی جو لفظ میں نے استعمال کیا ہے اس لئے بھی کیا ہے کہ بعض لوگ عادتاً بھی اعتراض کر رہے ہوتے ہیں کہ چھٹا پھینک دیتے ہیں۔جیسے فضل کا چھٹا پھینکا جاتا ہے، یہ بھی چھٹا پھینک دیتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی اعتراض تو ٹھیک ہو جائے گا۔تو ان کی عادت بھی انتظامیہ کو فائدہ دیتی ہے۔بہر حال میں یہ کہہ رہا تھا کہ اس سال میرے پاس ابھی تک نقائص کی نشاندہی کرنے والوں کے جو خطوط آئے ہیں انہوں نے بھی انتظامات کی تعریف کی ہے۔اور یہی لکھا ہے کہ ہر شعبہ میں جس حد تک بہتری پیدا کرنے کی کوشش ہو سکتی تھی یہ کوشش نظر آئی ہے بلکہ بعض جو لو گوں کے ادھر اُدھر پھرنے اور گپوں میں وقت گزارنے کا شکوہ کیا کرتے تھے انہوں نے بھی لکھا ہے کہ اس دفعہ شاملین جلسہ کی جلسہ کے پروگراموں میں شمولیت اور سنجیدگی میں بہت بہتری نظر آئی اور بہت توجہ نظر آئی۔اسی طرح عبادت ، دعاؤں